پوزیشن ہولڈر طلباء ہمارے سروں کا تاج ہیں، آپ نے والدین اور اساتذہ کا نام روشن کیا، ہم نے بچوں کے ہاتھوں میں پیٹرول بم اور کیلوں والے ڈنڈے نہیں دینے، ہم تعلیم کے شعبہ میں بڑی اصلاحات لا رہے ہیں، آج بچوں کو گارڈ آف آنر ملتے دیکھا تو آنکھیں نم ہو گئیں۔
بالآخر 9 مئی کے منصوبہ ساز نے اعتراف کر لیا ہے۔ زمان پارک دہشتگردی کا ہیڈکوارٹر بنا رہا۔ چار ماہ تک جعلی پلستر باندھ کر منصوبہ بندی کی گئی۔ اگر احتجاج پُرامن تھا تو 200 سے زائد فوجی تنصیبات پر حملے کیوں ہوئے؟ اسی گروہ نے پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاؤس اور پی ٹی وی پر بھی حملے کیے تھے۔
سڑک پر پھرتے شخص کو کہا گیا کہ آؤ تمہیں انصاف دیں گے، میں پوچھتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ ایسا ظلم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہم نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو واپس بھیج دیا تھا مگر پھر بعد میں کون واپس لایا تھا یہ سب جانتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے ججز نے آئین کو از سر نو تحریر کرتے ہوئے تحریک انصاف کو وہ کچھ عطا کیا جو مانگا بھی نہیں گیا تھا۔ قوم کے مجرم کو لانے کے لیے آئین کو ازسر نو تحریر کیا جارہا ہے۔ ججز کو ضمیر کے مطابق نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوتے ہیں اور جہاں ضمیر کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں وہاں آئین و قانون کا قتل ہوتا ہے۔
عمران خان نے کہہ دیا کہ عدالتوں، آئین اور اداروں پر اعتماد نہیں تو ہم انصاف اور حق لیکر دکھائیں گے اور بتائیں گے آزادی کیا ہوتی ہے۔ عمران خان کے خلاف گواہی دینے والا خیبرپختونخواہ میں نہیں رہ سکے گا، ایک ایک دن کا حساب لیں گے، تمہارا وہ حشر کریں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔