عمران خان کو 2030 سے قبل ریلیف نہیں مل سکتا، نو مئی ریاست سے بغاوت تھی۔ جسٹس ثاقب نثار و دیگر ججز نے پاکستان کے جوڈیشل سسٹم کا ڈھانچہ تباہ کیا۔ میں ایک جج پر نظریں جمائے بیٹھا ہوں، مناسب وقت پر آگے بڑھوں گا۔
The Supreme Court's constitutional bench has permitted military courts to deliver verdicts for 85 accused individuals, conditional on the outcome of a pending case. Those eligible for leniency are to be released, while others will be transferred to prisons to serve their sentences.
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ملٹری کورٹس کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی جو زیرِ التواء مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہونگے، جن ملزمان کو سزاؤں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دیگر رہا کیا جائے، سزاؤں پر جیلوں میں منتقل کیا جائے۔
Chief Justice Yahya Afridi asserts that the Constitutional Committee, not the Judicial Commission, will decide the allocation of cases against the 26th Amendment. He emphasised that post-amendment, the authority to schedule constitutional cases lies solely with the Constitutional Bench Committee
عمران خان رہائی کیلئے فوج کے ساتھ پسِ پردہ اور غیر مشروط مذاکرات اور ڈیل کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم سینئر فوجی شخصیات نے کہا ہے کہ عمران خان عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کریں اور فوج کے ساتھ ڈیل کی توقع نہ رکھیں، برطانوی جریدہ دی گارڈین۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.