وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، دورۂ پاکستان کی دعوت۔ دوطرفہ تعلقات، مشرقِ وسطیٰ میں امن اور نئی سرمایہ کاری پر اہم بات چیت، شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو امن کا علمبردار جبکہ صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کو عظیم قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات، علاقائی اورعالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال۔ صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کوعظیم قراردے دیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، امریکی نائب صدر اور سیکرٹری خارجہ کی بھی شرکت۔
Shehbaz Sharif is set to meet Donald Trump with Muslim leaders at the UNGA to push for action on Gaza and Kashmir and to project Pakistan as a key regional voice in global diplomacy.
President Donald Trump will address the nation from the Oval Office at 2 p.m. Eastern Time with the White House insisting it concerns defence despite rumours over his health and resignation. He is expected to announce the relocation of US Space Command from Colorado to Alabama.
ڈونلڈ ٹرمپ کا برِکس کو امریکہ مخالف اتحاد قرار دیتے ہوئے بھارت کی برِکس رکنیت پر حیرت کا اظہار۔ برِکس ڈالر پر براہِ راست حملہ کر رہا ہے، جسے امریکہ برداشت نہیں کرے گا۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔