علی امین گنڈا پور پنجاب آئیں ہم انہیں زلفوں سے باندھ کر الٹا لٹکائیں گے، مریم نواز اور خواتین صحافیوں کے بارے میں استعمال کی گئی زبان قابلِ برداشت نہیں ہے، جنہوں نے آج اپنی اولاد کو نہیں مانا وہ باپ کو کیا مانیں گے؟ پی ٹی آئی والے اندر خانے پاؤں پکڑ رہے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے، میں آج سے اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی بھی فریق سے مذاکرات کے دروازے بند کر رہا ہوں، اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر 22 اگست کا جلسہ منسوخ کیا، اجازت ملے یا نہ ملے 21 ستمبر کو لاہور میں جلسہ کریں گے، گنڈاپور کے بیان کر معافی مانگنے والا پارٹی چھوڑ دے۔
بات فیض حمید کے کورٹ مارشل پر نہیں رکے گی بلکہ یہ پاکستان سے غداری کا معاملہ ہے جس کی سزا موت ہے، مراد سعید پکڑا گیا تو ارشد شریف قتل کیس منطقی انجام تک پہنچ جائے گا اور پھر عمران خان اور فیض حمید کہیں نہیں جا سکتے۔
تحریکِ انصاف نے 9 مئی کو جو کچھ کیا اور اب 1971 جنگ کے حوالہ سے جو کچھ کر رہی ہے اس کے بعد معافی تلافی ممکن نہیں، تحریکِ انصاف کی جانب سے بہت خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے، تحریکِ انصاف پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔