یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک کی فہرست سے خارج کرنے کی خبر یقیناً ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ پاکستان کیلئے ایک بڑی تجارتی اور سفارتی کامیابی ہے جس کا کریڈٹ بہرحال موجودہ وفاقی حکومت کو جاتا ہے جس کی مؤثر خارجہ پالیسی اور معاشی معاملات میں اصلاحات کے باعث یہ ممکن ہو سکا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیمطابق چین کے چائنہ ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو700 ملین ڈالر کی رقم موصول ہوگئی ہے جس سے پاکستان کے زرمبادخلہ چار ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
لگژری آئیٹمز پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے جبکہ روز مرہ استعمال کی چیزیں جن میں گندم، چاول، دودھ،دالوں، سبزیوں، پھلوں، مچھلی، انڈوں، گوشت وغیرہ شامل ہیں ہر جی ایس ٹی بڑھایا نہیں جارہا۔
ایم ایف سے معاہدہ میں مشکلات کی سب سے بنیادی وجہ تحریک انصاف حکومت کی معاہدہ کی خلاف ورزی تھی انہوں نے نہ صرف معاہدہ کو توڑا بالکہ جاتے جاتے اس معاہدہ کو توڑ بھی دیا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کو پاکستان پر اعتبار نہیں رہا تھا۔
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔
Pakistan's textile exports reached $1.833 billion in July, the highest monthly figure on record, up 43 percent from June and 9.11 percent on the same month last year. Total exports rose 10 percent to $2.96 billion, with textiles the clear driver.