پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 107,109 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ 2,000 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ، کاروباری حجم 51 کروڑ شیئرز سے تجاوز کر گیا، جو ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
قومی سلامتی کا معاشی سیکیورٹی سے براہِ راست تعلق ہے۔ اگر ہم معاشی طور پر مضبوط ہوں گے تو ہماری نیشنل سیکیورٹی بہتر ہو جائے گی۔ ملکی استحکام کو تباہ کرنے اور انتشار پھیلانے کیلئے دارالحکومت پر چڑھائی کی گئی۔ سٹاک ایکسچینج میں ایک لاکھ پوائنٹس پر سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان، سٹاک ایکسچینج میں 94 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں اب تک 670 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے دوسرے روز بھی زبردست تیزی، 100 انڈکس نے 91,000 ریکارڈ پوائنٹس کی سطح عبور کرلی۔ سٹاک مارکیٹ 900 سے زائد پوائنٹس اضافہ کیساتھ 91,200 پوائنٹس کی سطح عبور کرگئی۔ سٹاک مارکیٹ میں تیزی کیساتھ ڈالر کی قیمت میں بھی کمی۔
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.