پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 107,109 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ 2,000 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ، کاروباری حجم 51 کروڑ شیئرز سے تجاوز کر گیا، جو ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
قومی سلامتی کا معاشی سیکیورٹی سے براہِ راست تعلق ہے۔ اگر ہم معاشی طور پر مضبوط ہوں گے تو ہماری نیشنل سیکیورٹی بہتر ہو جائے گی۔ ملکی استحکام کو تباہ کرنے اور انتشار پھیلانے کیلئے دارالحکومت پر چڑھائی کی گئی۔ سٹاک ایکسچینج میں ایک لاکھ پوائنٹس پر سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان، سٹاک ایکسچینج میں 94 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں اب تک 670 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے دوسرے روز بھی زبردست تیزی، 100 انڈکس نے 91,000 ریکارڈ پوائنٹس کی سطح عبور کرلی۔ سٹاک مارکیٹ 900 سے زائد پوائنٹس اضافہ کیساتھ 91,200 پوائنٹس کی سطح عبور کرگئی۔ سٹاک مارکیٹ میں تیزی کیساتھ ڈالر کی قیمت میں بھی کمی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکا ایران امن معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں نیچے گِر گئیں، اِس پیش رفت کی وجہ آبنائے ہرمز دوبارہ کُھلنے کی امید ہے۔
پاکستان کا سفارتی اثر و رسوخ توانائی کی عالمی منڈیوں میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔
Oil prices dropped after Shehbaz Sharif announced a US-Iran peace deal, as markets priced in lower risk around the Strait of Hormuz and wider regional supply disruption.
Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.