وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی مہارت سے ثابت کیا کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما سے کیسے مؤثر انداز میں ڈیل کی جاتی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
Pakistan’s Field Marshal Asim Munir warned that there is no room for war in a nuclear environment, asserting that Pakistan will respond decisively to any provocation and that India will bear full responsibility for any escalation. He reaffirmed Pakistan’s unwavering stance on the establishment of an independent and sovereign Palestinian state with Al-Quds Al-Sharif as its capital.
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کو خبردار کیا کہ ایٹمی ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان کسی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں بلا تردد اور غیر متناسب ردِعمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشیدگی بڑھی تو اس کے تباہ کن اثرات پورے خطے پر پڑیں گے اور ان نتائج کی ذمہ داری براہِ راست بھارت پر عائد ہوگی۔
پاکستان مسلم ممالک سے فلسطین کیلئے فوری و مؤثر عملی اقدامات کی اپیل اور غیرمشروط جنگ بندی، انسانی امداد کی بغیر رکاوٹ فراہمی و اسرائیلی احتساب کا مطالبہ کرتا ہے۔
ایس سی او سربراہی اجلاس 2024 پاکستان میں 15 اور 16 اکتوبر کو منعقد ہوگا، جس میں چین، روس، بھارت اور ایران جیسے رکن ممالک کے سربراہان حکومت شرکت کریں گے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد سیکیورٹی، اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطے پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔