لگژری آئیٹمز پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے جبکہ روز مرہ استعمال کی چیزیں جن میں گندم، چاول، دودھ،دالوں، سبزیوں، پھلوں، مچھلی، انڈوں، گوشت وغیرہ شامل ہیں ہر جی ایس ٹی بڑھایا نہیں جارہا۔
ایم ایف سے معاہدہ میں مشکلات کی سب سے بنیادی وجہ تحریک انصاف حکومت کی معاہدہ کی خلاف ورزی تھی انہوں نے نہ صرف معاہدہ کو توڑا بالکہ جاتے جاتے اس معاہدہ کو توڑ بھی دیا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کو پاکستان پر اعتبار نہیں رہا تھا۔
حکومت کواب سارا بوجھ صرف متوسط اور غریب طبقہ پرہی ڈالنا نہیں چاہیے بالکہ اب اشرافیہ پر بھی اس بوجھ کو منتقل کرنا چاہیے کیونکہ جب تک اشرافیہ اس بوجھ کو نہیں اٹھاتی ملکی معاشی صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی اب شارٹ ٹرم کی بجائے لانگ ٹرم اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔
میں ایسے کسی بیان اورمہم کی سختی سے تردید کرتا ہوں اور دوٹوک انداز میں واضع کرتا ہوں کہ نہ حکومت کا کوئی ایسا ارادہ ہے اور نہ ہی ایسا کوئی اقدام حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔
پاکستانی حکومت کو درپیش سنگین مالیاتی بحرانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک کاحالیہ اقدام پاکستان کی مالی خودمختاری پر ایک بے حد غیر ضروری، سنگین اور کاری ضرب کے علاوہ اورکچھ نہیں ہے!
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔