پاکستان ان شا اللہ اس بھنور سے نہ صرف نکلے گا بلکہ ایسی کئی اسکیمز کی تیاری ہورہی ہے جو پاکستان کو دوبارہ حقیقی ترقی کی طرف لے کر جائینگی آنے والے چند ماہ میں دیکھیں گے کہ ان شااللہ پاکستان دوبارہ ترقی کی منزل کی جانب رواں دواں ہوگا۔
پاکستان نے حالیہ وقت میں ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کی ہیں اور بیرونی ادائیگیوں کے باوجود ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر اب بڑھنے کی جانب الحمد للہ گامزن ہیں۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیمطابق چین کے چائنہ ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو700 ملین ڈالر کی رقم موصول ہوگئی ہے جس سے پاکستان کے زرمبادخلہ چار ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
لگژری آئیٹمز پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے جبکہ روز مرہ استعمال کی چیزیں جن میں گندم، چاول، دودھ،دالوں، سبزیوں، پھلوں، مچھلی، انڈوں، گوشت وغیرہ شامل ہیں ہر جی ایس ٹی بڑھایا نہیں جارہا۔
ایم ایف سے معاہدہ میں مشکلات کی سب سے بنیادی وجہ تحریک انصاف حکومت کی معاہدہ کی خلاف ورزی تھی انہوں نے نہ صرف معاہدہ کو توڑا بالکہ جاتے جاتے اس معاہدہ کو توڑ بھی دیا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کو پاکستان پر اعتبار نہیں رہا تھا۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔