بھارت نے ہماری 1990 والی معاشی پالیسی اپنا کر ترقی حاصل کی، ہماری وہ پالیسی یہاں جاری رہتی تو آج پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں آگے ہوتا، جب بات پاکستان کی ہو تو ہم فیصلے کرتے ہوئے ذاتی مفادات اور نقصانات نہیں دیکھتے۔
کابل جا کر فوٹو سیشن کروانے والوں اور طالبان حکومت کے ساتھ انگیج کرنے والوں نے ملک کی تقدیر کے ساتھ کھلواڑ کیا، پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر بڑے دہشتگردوں کو کیوں رہا کروایا گیا؟
آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد نواز شریف ہی وزیراعظم ہوں گے، نواز شریف کسی سے انتقام نہیں لینا چاہتے، مسلم لیگ نواز اقتدار میں آ کر ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دے گی اور یہ قومی خدمت ہو گی۔
پاکستان مسلم لیگ نواز نے آئندہ انتخابات کیلئے سینیٹر اسحاق ڈار کو الیکشن سیل کا چیئرمین مقرر کر دیا، سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار پاکستان کی مجلسِ شوریٰ میں ایوانِ بالا کے رکن ہیں۔
کچھ بین الاقوامی قوتیں چاہتی تھیں پاکستان ڈیفالٹ کرے اور سری لنکا بن جائے۔ پاکستان جس نے جی 20 میں شامل ہونا تھا پراجیکٹ عمران اور اسکے معماروں نے اسے 47ویں معیشت بنا دیا، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔
A robot dog clip has derailed India’s AI summit after online users identified the device as a Chinese-made model. Congress and Rahul Gandhi seized on the claim, turning it into a credibility crisis for the event.