سینیٹ اجلاس میں 26ویں آئینی ترمیم کا بِل دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔ سینیٹ کے 65 ارکان نے 26ویں آئینی ترمیم کے بِل کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ سینیٹ کے 4 ارکان نے 26ویں آئینی ترمیم کے بِل کے خلاف ووٹ دیا ہے
آئینی ترمیم کیلئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ عدالتی اصلاحات کے نکات پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، دیگر نکات پر مزید مشاورت کی جائے گی، آئینی ترمیم میں پارلیمنٹ کو بالاتر رکھا جائے، ایسی ترامیم لائی جائیں جو اداروں میں اصلاحات کا سبب بنیں۔
مولانا فضل الرحمٰن
شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن سمٹ میں کئی بڑے سربراہانِ مملکت آ رہے ہیں۔ پاکستان روس، چین، برطانیہ اور امریکہ سمیت سب کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات چاہتا ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب جا رہی ہے۔ پاکستان میں صرف ایک پارٹی کی ضد کی وجہ سے سیاسی بھونچال ختم نہیں ہو رہا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کیلئے تیاری مکمل ہے، پاکستان شاندار میزبانی کرے گا، ہم 1997 کے بعد کسی بڑے عالمی ایونٹ کی میزبانی کر رہے ہیں، ایک پارٹی آج بھی وہی کام کر رہی ہے جو اس نے 2014 میں کیا تھا، پاکستان کا غزہ و فلسطین پر مؤقف واضح ہے، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار۔
اس خصوصی انٹرویو میں سابق چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی 2017 کے پاناما کیس میں عدلیہ کے کردار، ان پر ڈالا جانے والا دباؤ اور ان کے اصولی مؤقف کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ وہ نواز شریف کی حکومت اور پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ مکمل انٹرویو دیکھیں "ہاٹ سیٹ" پر تھرزڈے ٹائمز کے ساتھ۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔