امریکہ اور اسرائیل کا جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو نکال کر انہیں مشرقی افریقی ممالک میں بسانے کا منصوبہ۔ اس کا مقصد غزہ کو ایک ساحلی تفریحی سیاحتی مقام میں تبدیل کرنا ہے۔
انٹرنیشنل کریمینل کورٹ (آئی سی سی) نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹس گرفتاری جاری کر دیئے۔ وارنٹ 8 اکتوبر 2023 سے 20 مئی 2024 تک نہتے شہریوں پر حملوں، بھوک و غذائی کمی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر جاری کیے گئے۔
Bill Clinton reflects on American democracy’s fragile state in a rare sit-down with CNN, detailing Kamala Harris’ potential presidency, and his lingering regrets over trade and peace deals.
Putin expresses openness to Saudi Arabia hosting peace talks with Ukraine but insists negotiations must resume based on the 2022 Istanbul agreement. The talks depend on Ukraine lifting its ban on dealing with Russia.
اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو عمران خان کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، عمران خان عوامی رائے اور پاکستانی موقف کے برعکس اسرائیل کیلئے خیالات میں وسعت رکھتے ہیں، عمران خان کیلئے اسرائیل سے متعلق پاکستانی پالیسی میں تبدیلی بہت بڑا چیلنج ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔