فیض حمید کا ٹرائل بہرصورت فوجی عدالت میں ہو گا، فوجی عدالت میں سابق جنرل کا ٹرائل اوپن نہیں ہوتا لیکن اگر عمران خان کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوا تو اوپن ہو گا، قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ عمران خان کا 9 مئی میں کیا کردار تھا۔
جنرل (ر) فیض حمید 9 مئی کے واقعات میں ملوث تھے، جنرل (ر) باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فیض حمید آرمی چیف بننے کیلئے میاں نواز شریف کو پیغامات بھیجتے رہے، فیض حمید نے پیغامات میں نواز شریف سے معافیاں مانگیں اور قرآن کی قسمیں اٹھا کر آئندہ کیلئے یقین دہانی کرواتے رہے۔
فیض آباد دھرنے کے بعد سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بےبنیاد الزام لگانے والے کی وہی سزا ہے جو اس الزام کے مرتکب فرد کو دی جاتی ہے، ریاست مذہب، سیاست یا ذاتی مفادات کے نام پر کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی۔
عمران خان اقتدار کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، تاریخ گواہ ہے عمران خان نے جس کیلئے نازیبا گفتگو کی پھر اس کے پاؤں پکڑے، عمران خان نے ڈیڑھ برس نفی کے بعد جی ایچ کیو احتجاج کا اعتراف کر لیا ہے، عمران خان کی طرف سے ترلے منتیں شروع ہو چکی ہیں۔
تحریکِ انصاف اب پاکستان کے وجود کیلئے خطرہ بن چکی ہے، تحریکِ انصاف کو تمام فنڈنگ اور امداد امریکہ سے مل رہی ہے، پورا امریکی نظام تحریکِ انصاف کی حمایت میں بول رہا ہے، پاکستان میں غیر یقینی صورتحال کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے۔
بلوچستان میں دہشتگردوں کے سکول سمیت 12 مختلف مقامات پر حملے، سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری و مؤثر کارروائیوں میں تمام حملے ناکام بناتے ہوئے 58 دہشتگرد ہلاک کر دیئے۔ دہشتگرد کارروائیوں میں 10 سیکیورٹی اہلکار اور 12 عام شہری شہید ہو گئے۔
بھارتی کرنسی بدترین گراوٹ کی شکار ہے، بھارتی روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ بھارت کی جانب سے معاشی نمو کے دعووں کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری کے مسلسل انخلاء اور کرنسی میں مزید گراوٹ کے خدشات نے مارکیٹ کو بےچین کر رکھا ہے۔
اسرائیل حماس جنگ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے؛ اسرائیلی افواج (آئی ڈی ایف) نے حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار تسلیم کر لیے جبکہ اِن میں ملبہ تلے دبے لاپتہ افراد اور بھوک، علاج کی کمی اور جنگی بیماریوں سے مرنے والے افراد شامل نہیں ہیں۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔