پنجاب پر لشکر کشی کی دھمکیاں دینے والوں کا ہم اٹک پل پر انتظار کریں گے، پرسوں پی ٹی آئی نے پاکستان کا وجود چیلنج کیا، کل کا عمل پرسوں کا ری ایکشن تھا، پی ٹی آئی والے ضمیر فروش اور رنگ باز ہیں، عمران خان ڈگی میں بیٹھ کر جنرل باجوہ سے ملنے جاتا تھا۔
پی ٹی آئی کو وہ گود چاہیے جس میں انہوں نے پرورش پائی مگر اب پاشا و باجوہ اور فیض حمید نہیں رہے، یہ این آر او کیلئے مر رہے ہیں، واضح کر دوں کہ انہیں کسی صورت این آر او نہیں ملے گا، جب تک 9 مئی کا حساب نہیں ہوتا تب تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔ خواجہ آصف
فیض حمید کا ٹرائل بہرصورت فوجی عدالت میں ہو گا، فوجی عدالت میں سابق جنرل کا ٹرائل اوپن نہیں ہوتا لیکن اگر عمران خان کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوا تو اوپن ہو گا، قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ عمران خان کا 9 مئی میں کیا کردار تھا۔
جنرل (ر) فیض حمید 9 مئی کے واقعات میں ملوث تھے، جنرل (ر) باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فیض حمید آرمی چیف بننے کیلئے میاں نواز شریف کو پیغامات بھیجتے رہے، فیض حمید نے پیغامات میں نواز شریف سے معافیاں مانگیں اور قرآن کی قسمیں اٹھا کر آئندہ کیلئے یقین دہانی کرواتے رہے۔
فیض آباد دھرنے کے بعد سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بےبنیاد الزام لگانے والے کی وہی سزا ہے جو اس الزام کے مرتکب فرد کو دی جاتی ہے، ریاست مذہب، سیاست یا ذاتی مفادات کے نام پر کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی۔
The US Supreme Court ruled that President Trump’s sweeping emergency tariffs were unlawful, curbing a signature trade strategy and opening the door to large-scale refund claims from businesses that paid the duties.
واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے باہر سِکھ کارکنوں کا مظاہرہ، پنجاب کی بھارتی قبضہ سے آزادی کیلئے ’’خالصتان ریفرنڈم‘‘ کا مطالبہ کر دیا۔ مظاہرین نے ’’بورڈ آف پیس میں خالصتان تحریک کی شمولیت‘‘ کی صورت میں 1 بلین ڈالرز تعاون کی پیشکش بھی کر دی۔
More than 357,000 educated young people in IOJK are unemployed while thousands of sanctioned government posts remain vacant. The scale of the backlog suggests a structural hiring freeze that contradicts official claims of economic progress in the region.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔