پی ٹی آئی عمران خان کو بیرونِ مُلک بھجوانے کی کوشش کر رہی ہے جس کیلئے یہ بیرونی طاقتوں کو کہہ رہے ہیں کہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور وہ مُلک بھی عمران خان کو لینے کیلئے تیار ہے، میں کہتا تھا کہ اکتوبر میں خطرات ہو سکتے ہیں مگر پی ٹی آئی کی کوشش ناکام ہوئی۔
پی ٹی آئی کی وفاق پر یلغار روکنے کیلئے پوری طاقت اور وسائل بروئے کار لائیں گے، ، پی ٹی آئی کی پوری ڈیفینیشن یہی ہے کہ عمران خان نہیں تو پاکستان نہیں، عمران خان کے کئی چہرے ہیں، کیا عدالتوں کو نظر نہیں آ رہا کہ عمران خان ملکی سالمیت پر حملے کر رہا ہے؟
کوئی صوبہ کسی دوسرے ملک سے براہِ راست مذاکرات نہیں کر سکتا، علی امین گنڈا پور کا افغانستان سے براہِ راست مذاکرات کا بیان وفاق پر حملہ ہے، پی ٹی آئی کے 4 سالہ دورِ حکومت میں اپوزیشن کو دیوار سے لگایا گیا، مجھ پر آرٹیکل 6 لگایا گیا۔
پنجاب پر لشکر کشی کی دھمکیاں دینے والوں کا ہم اٹک پل پر انتظار کریں گے، پرسوں پی ٹی آئی نے پاکستان کا وجود چیلنج کیا، کل کا عمل پرسوں کا ری ایکشن تھا، پی ٹی آئی والے ضمیر فروش اور رنگ باز ہیں، عمران خان ڈگی میں بیٹھ کر جنرل باجوہ سے ملنے جاتا تھا۔
پی ٹی آئی کو وہ گود چاہیے جس میں انہوں نے پرورش پائی مگر اب پاشا و باجوہ اور فیض حمید نہیں رہے، یہ این آر او کیلئے مر رہے ہیں، واضح کر دوں کہ انہیں کسی صورت این آر او نہیں ملے گا، جب تک 9 مئی کا حساب نہیں ہوتا تب تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔ خواجہ آصف
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.