فیض حمید کا ٹرائل بہرصورت فوجی عدالت میں ہو گا، فوجی عدالت میں سابق جنرل کا ٹرائل اوپن نہیں ہوتا لیکن اگر عمران خان کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوا تو اوپن ہو گا، قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ عمران خان کا 9 مئی میں کیا کردار تھا۔
جنرل (ر) فیض حمید 9 مئی کے واقعات میں ملوث تھے، جنرل (ر) باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فیض حمید آرمی چیف بننے کیلئے میاں نواز شریف کو پیغامات بھیجتے رہے، فیض حمید نے پیغامات میں نواز شریف سے معافیاں مانگیں اور قرآن کی قسمیں اٹھا کر آئندہ کیلئے یقین دہانی کرواتے رہے۔
فیض آباد دھرنے کے بعد سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بےبنیاد الزام لگانے والے کی وہی سزا ہے جو اس الزام کے مرتکب فرد کو دی جاتی ہے، ریاست مذہب، سیاست یا ذاتی مفادات کے نام پر کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی۔
عمران خان اقتدار کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، تاریخ گواہ ہے عمران خان نے جس کیلئے نازیبا گفتگو کی پھر اس کے پاؤں پکڑے، عمران خان نے ڈیڑھ برس نفی کے بعد جی ایچ کیو احتجاج کا اعتراف کر لیا ہے، عمران خان کی طرف سے ترلے منتیں شروع ہو چکی ہیں۔
تحریکِ انصاف اب پاکستان کے وجود کیلئے خطرہ بن چکی ہے، تحریکِ انصاف کو تمام فنڈنگ اور امداد امریکہ سے مل رہی ہے، پورا امریکی نظام تحریکِ انصاف کی حمایت میں بول رہا ہے، پاکستان میں غیر یقینی صورتحال کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.