عمران خان کو 2030 سے قبل ریلیف نہیں مل سکتا، نو مئی ریاست سے بغاوت تھی۔ جسٹس ثاقب نثار و دیگر ججز نے پاکستان کے جوڈیشل سسٹم کا ڈھانچہ تباہ کیا۔ میں ایک جج پر نظریں جمائے بیٹھا ہوں، مناسب وقت پر آگے بڑھوں گا۔
پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کی معطلی اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں، قانون میرے ذاتی فائدے کیلئے نہیں بنایا گیا، معطلی سے غریب و مظلوم عوام کو نقصان اور تجاوزات و لینڈ گریبر مافیا کو فائدہ ہو گا۔
عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ ہے، یہ سلسلہ مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوا، عدلیہ اس مداخلت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور جلد اس کا خاتمہ ہونے والا ہے، ایک جج کو کسی کا ڈر نہیں ہونا چاہیے۔
ہم نے کسی ادارہ، حکومت یا ایجنسی کی بی ٹیم نہیں بننا، ہم کسی ادارہ یا حکومت کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، ہم تب تک احترام کریں گے جب تک عدالتوں کا احترام کیا جائے گا۔
جج اطہر من اللّٰہ نے مجھے پراکسی کہا، ایک جج کیسے یہ جرأت کر سکتا ہے کہ وہ سینیٹر کو پراکسی کہے؟ جج نے ایوان کی توہین کی ہے، میں سینیٹ سے اطہر من اللّٰہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں، سینیٹر فیصل واوڈا۔
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔