مریم نواز، صحافی حامد میر، ابصار عالم اور صحافی اسد طور ان لوگوں میں شامل ہیں جو عمران خان اور جنرل (ر) فیض حمید کی جانب سے قاتلانہ سازشوں میں محفوظ رہے۔
پاکستان کی بری حالت کا ذمہ دار عمران خان اور اسکے ساتھ پورا گینگ ہے جس نے پاکستان کو نوچ نوچ کر کھایا ہے۔ اس گینگ کا سرغنہ عمران خان ہے، اس گینگ میں پاکستان کا ہر کرپٹ ترین شخص موجود ہے چاہے وہ ثاقب نثار ہو جنرل فیض ہو جسٹس مظاہر نقوی ہو وہ کوئی بھی کرپٹ ترین شخص ہو وہ اس گینگ کا حصہ نکلے گا۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شاہی محل میں ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ نواز کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف بھی شریک تھییں۔
جب الیکشن کا کیس چل رہا تھا تو سننے کو ملا کہ چیف جسٹس جذباتی ہو گئے۔ آپ کو اس وقت بھی جذباتی ہونا چاہیے تھا جب ایک منتخب وزیراعظم کو دفتر سے نکالا گیا، اقامے پر سزا دی، بیٹی کو باپ کا ساتھ دینے پر موت کی چکیوں میں ڈالا، رانا ثناء اللّٰہ پر منشیات اسمگلنگ کیس ڈالا گیا، طلال چودھری پر ظلم و جبر کیا گیا۔
More than 357,000 educated young people in IOJK are unemployed while thousands of sanctioned government posts remain vacant. The scale of the backlog suggests a structural hiring freeze that contradicts official claims of economic progress in the region.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔