سنا تھا کہ ٹوٹی ٹانگ جوڑنے کیلئے چڑھا ہوا پلاسٹر اتارنے کیلئے ڈاکٹر کا فیصلہ چاہیے ہوتا ہے لیکن آج پتہ چلا اسکے لیے ڈاکٹر کا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ چاہیے ہوتا ہے جونہی فیصلہ آیا اسکی ٹانگ کا پلاسٹر اتر گیا۔
عمران خان تمہاری چیخیں غلط نہیں ہیں تم اپنے گاڈ فادرفیض اوراسکے ٹولے کی مدد سے سازشوں پر پلتے رہے ہو لیکن اب بڑے بڑے برج الٹ چکے ہیں تم جیسے پیادے اب ہمیشہ کیلئے دفن ہوجائینگے۔
اس ملک کو ایماندار ججز کی ضرورت ہے عمراندار ججز کی ضرورت نہیں ہے جسٹس مظاہر نقوی کو چاہیے کہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں استعفی دیں اور عدلیہ پر لگنے والے دھبے کو مٹائیں۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔