اللّٰه تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے تمام جھوٹے مقدمات میں سرخرو فرمایا، حقیقی خوشی تب نصیب ہو گی جب آپ کو بھی بَری کیا جائے گا اور 2017 والا خوشحال پاکستان واپس ملے گا، نواز شریف
اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں میاں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں کیس میں بَری کر دیا ہے جبکہ العزیزیہ ریفرنس کو واپس احتساب عدالت بھیجنے کی استدعا مسترد کر دی گئی ہے۔
نواز شریف کو چور کہنے والا عمران خان خود ملکی تاریخ کی سب سے بڑی چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا، عمران خان انتقام نہیں بلکہ اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہے، کیا یہ لیول پلیئنگ فیلڈ تھی کہ نواز شریف کو 22 سالوں میں صرف ایک الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی؟
پتہ لگنا چاہیے کہ مجھے 93 اور 99 میں کیوں نکالا گیا، ہمیں نکال کر مُلک اناڑی کے حوالہ کیا گیا، معاشی بدنظمی 2019 میں شروع ہوئی اور 2022 تک ہر چیز کا بھٹا بیٹھ گیا، ملک کے ساتھ یہ سلوک کرنے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
ملک پر ایسا کھلنڈرا مسلط کیا گیا جس نے سب سے بڑا 190 ملین پاؤنڈز کا ڈاکہ ڈالا۔ ہمیں چور چور کہنے والے خود سب سے بڑے چور ثابت ہوئے۔ جو کہتا تھا تمہیں گریبان سے پکڑ کر جیل میں ڈالوں گا آج وہ خود کہاں ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔