پاکستان میں اقلیتوں کیخلاف بڑھتے حملے ہمارے لیے باعثِ شرمندگی ہیں، ذاتی جھگڑوں پر توہینِ مذہب کا الزام لگا کر قتل کیا جا رہا ہے، ملک جتنا ہمارا ہے اتنا اقلیتوں کا بھی ہے، تحریکِ انصاف آج بھی 9 مئی والی ہے اور دہشتگردوں کیساتھ کھڑی ہے۔
نو مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں، حوصلہ افزائی کرنے والوں اور سہولتکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، 9 مئی کے مجرموں کے خلاف کارروائی کے بغیر ملک ہمیشہ سازشی عناصر کے ہاتھوں یرغمال رہے گا۔
عمران خان نے سماجی و ریاستی نظام کے وجود کو تباہ کرنے کی کوشش کی، عمران خان اگر معافی مانگیں اور رویہ بہتر کریں تو معافی مل بھی سکتی ہے، نو مئی ریاست پر حملہ تھا، ریاست دہشتگردی کے خلاف طاقت کے استعمال کا حق رکھتی ہے۔
سانحۂ 9 مئی کے منصوبہ سازوں، سہولتکاروں اور اس میں ملوث ذمہ داروں کیساتھ نہ کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی انہیں قانون کی دھجیاں اڑانے کی اجازت دی جائے گی۔ 9 مئی کے اصل مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
سانحہ 9 مئی کے مجرموں کو آئین و قانون کے مطابق سزائیں دینا ضروری ہے ورنہ یہاں کسی کی جان، مال اور آبرو محفوظ نہ رہیں گے، انتشاری ٹولے سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی، پاکستان میں فوجی اڈے کسی کو دیئے گئے نہ دیئے جائیں گے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر
While the BLA's violence seeks to manufacture inevitability in Balochistan, the answers it receives from Pakistan collapse distance and deny it spectacle it craves so dearly—time and time again.
পাকিস্তান টি-টোয়েন্টি বিশ্বকাপ ২০২৬-এ অংশ নেবে, তবে জাতীয় দল ১৫ ফেব্রুয়ারি ভারতের বিপক্ষে নির্ধারিত ম্যাচে অংশগ্রহণ করবে না। বাংলাদেশের অংশগ্রহণে অস্বীকৃতির পর পাকিস্তান এই সিদ্ধান্ত নিয়েছে জাতীয় স্বার্থ, খেলোয়াড়দের নিরাপত্তা এবং নীতিগত অবস্থানের ভিত্তিতে।
Pakistan has confirmed its participation in the T20 World Cup 2026, but the national team will not take the field against India on 15 February, with officials citing national interest, player safety and a principled position after Bangladesh declined to participate.
پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کا اعلان کر دیا تاہم حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم 15 فروری کو بھارت کے خلاف کولمبو میں شیڈول میچ میں حصہ نہیں لے گی۔ فیصلہ قومی مفاد، کھلاڑیوں کی سلامتی اور اصولی مؤقف کے تحت کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھارتی حمایت یافتہ ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کے خلاف آپریشنز جاری، نوشکی میں بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے 12 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ کلیئرنس کارروائیوں میں اب تک 16 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔