دہشتگردی کے معاملات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، ملکی خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دیں گے، پاکستان پر حملہ کرنے والوں کو انھی کی زبان میں جواب دیا جائے گا، اگر امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی لگ سکتی ہے تو پاکستان میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں انٹیلیجنس معلومات کی بناء پر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کیے ہیں جس کا اہم ترین ہدف حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر متعدد دہشتگرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
فوج قربانیاں دے رہی ہے اور اس کی جتنی عزت کی جائے کم ہے، ہمارے شہداء ہمارے محسن ہیں، ایک سیاسی جماعت نے شہداء کا مذاق اڑایا ہے، یہ لوگ دشمنی میں بہت دور جا چکے، کوئی بھی جماعت ایسی حدود سے تجاوز کرے گی تو انجام اچھا نہیں ہو گا۔
تحریکِ انصاف نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے انتخابی نتائج کے معاملات میں مداخلت کی درخواست کر دی، تحریکِ انصاف نے عوامی مینڈیٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے جیلوں میں قید پارٹی راہنماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ کر دیا۔
پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی، آپریشن مرگ بر سرمچار کے تحت ایران کے صوبہ سیستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی۔ مصدقہ انٹیلیجنس معلومات پر کی گئی کارروائی قومی سلامتی کو خطرات سے بچانے اور دفاع کے غیرمتزلزل عزم کا مظہر ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔