سٹاک مارکیٹ میں نئے سال کے آغاز پر نیا ریکارڈ قائم، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 2100 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج 117322 پوائنٹس کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ نے 2024 میں 22 برس کی نسبت بہترین سالانہ منافع کیساتھ تقریباً تمام مارکیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آئندہ برس معاشی حالات میں مزید بہتری، شرح سود و افراطِ زر میں کمی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
Pakistan Stock Market showcased a remarkable upward trajectory as the benchmark KSE 100 Index gained by over 4,000 points, pushing past a significant psychological barrier of 14,000 points.
سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے آغاز پر زبردست تیزی کا رجحان، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 4600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج ایک بار پھر 114000 پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی کا رجحان برقرار، سٹاک ایکسچینج میں 1 لاکھ 16 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں 2000 سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ سٹاک ایکسچینج 116300 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔