اب ان کے لیے بس مجھے قتل کرنا باقی بچا ہے لیکن میں موت سے نہیں ڈرتا کیونکہ میرا ایمان مضبوط ہے، میں غلامی پر موت کو ترجیح دونگا۔ میں کھلے عام کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یا میری اہلیہ کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار آرمی چیف ہوں گے، عمران خان۔
شبِ معراج کو میرے کھانے میں ٹوائلٹ کلینر کے 3 قطرے ملائے گئے، مجھے جیل میں بھی کسی نے بتایا تھا کہ کھانے میں ٹوائلٹ کلینر ڈالا گیا ہے، مجھے کھانا اور پانی بھی کڑوا لگتا ہے۔
فوج قربانیاں دے رہی ہے اور اس کی جتنی عزت کی جائے کم ہے، ہمارے شہداء ہمارے محسن ہیں، ایک سیاسی جماعت نے شہداء کا مذاق اڑایا ہے، یہ لوگ دشمنی میں بہت دور جا چکے، کوئی بھی جماعت ایسی حدود سے تجاوز کرے گی تو انجام اچھا نہیں ہو گا۔
تحریکِ انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کے ساتھ معاہدہ کو عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات اور سیاسی استحکام سے مشروط کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔