وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے استعفٰی دے دیا، جماعت کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس 18 مئی کو طلب کر لیا گیا جس میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب کیا جائے گا۔
مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کا اقتدار میں واپس آنا ملکی معاشی استحکام اور پالیسیز کے تسلسل کیلئے خوش آئند ہے، کاروبار اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
عمران خان نے سماجی و ریاستی نظام کے وجود کو تباہ کرنے کی کوشش کی، عمران خان اگر معافی مانگیں اور رویہ بہتر کریں تو معافی مل بھی سکتی ہے، نو مئی ریاست پر حملہ تھا، ریاست دہشتگردی کے خلاف طاقت کے استعمال کا حق رکھتی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو غیر مستحکم کیا، عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپوزیشن کو ختم کر دینا چاہتا تھا، مسلم لیگ (ن) کو سادہ اکثریت ملتی تو حکومت نواز شریف کی لیڈرشپ میں بنتی، پاکستان کیلئے نواز شریف، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔
ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے فتح سمیٹ لی، حکمراں جماعت قومی اسمبلی کی 2 جبکہ پنجاب اسمبلی کی 7 نشستوں پر کامیاب، مسلم لیگ (ق) اور استحکامِ پاکستان پارٹی صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کامیاب۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.
سعودی وزیرِ خارجہ کے پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے، خطہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سفارتی روابط اور سیاسی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، پھر چاہے جو بھی حالات ہوں اور وقت کوئی بھی ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔