جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے تحریکِ عدم اعتماد لانے کیلئے کہا تھا، یہ تحریک پیپلز پارٹی نے چلائی تھی لیکن میں اس کے حق میں نہ تھا، تحریکِ انصاف کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہمارے ساتھ دھاندلی کی گئی، اب فیصلے میدان میں ہوں گے۔
نواز شریف اگلے پانچ برس بھرپور سیاست کریں گے، نواز شریف مرکز اور پنجاب میں اپنی حکومتوں کی سرپرستی کریں گے، وزارتِ عظمیٰ قبول نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں، میں اور شہباز شریف ان کے سپاہی ہیں۔
اس بات پر قائم ہوں کہ نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم منتخب ہوں گے اور ہم ان کی قیادت میں پاکستان کو لگے زخم بھریں گے، ہم پر دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں حالانکہ ہماری جماعت کے کئی سینئر راہنما آزاد امیدواروں سے ہار گئے، مسلم لیگ (ن) کے پاس مرکز اور پنجاب میں اکثریت ہے۔
قومی اسمبلی کی نشستوں پر آزاد حیثیت سے منتخب ہو کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرنے والے اراکین کی تعداد 6 ہو گئی، مرکز میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے والی مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی مجموعی تعداد 81 ہو گئی۔
عمران خان اس قابل ہی نہیں ہیں کہ کوئی حکومت چلا سکیں، وہ بطور وزیراعظم سندھ حکومت کو اہمیت نہیں دیتے تھے، وہ سیلاب کے دوران بھی سندھ نہ آئے، شہباز شریف نے بطور وزیراعظم ہماری بات سنی اور ساتھ لے کر چلے۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.
سعودی وزیرِ خارجہ کے پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے، خطہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سفارتی روابط اور سیاسی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، پھر چاہے جو بھی حالات ہوں اور وقت کوئی بھی ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔