اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے ورکنگ گروپ برائے جبری حراست کی سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کی سفارش بارے رپورٹ کی ذمہ داری لینے سے گریز کردیا۔ ترجمان کے مطابق یہ سفارش ایک آزاد پینل کی جانب سے کی گئی ہے، اور اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور عمران خان کے حالات کو مثبت انداز میں آگے بڑھانے کی امید ظاہر کی ہے
احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد علی وڑائچ نے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں سابق چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔
پاکستان پر اقتصادی سمیت ہر طرح کی پابندیاں عائد کروانے کی ایک اور قرارداد تحریک انصاف کا اگلا ہدف ہے۔ تحریک انصاف کے امیر ووٹرز نے امریکی کانگریس کے موجودہ اراکین کو پاکستان مخالف قرارداد منظور کروانے پر آمادہ کیا ہے، جو کہ امریکی انتخابات کے قریب آنے پر ووٹرز کی حمایت اور چندے کے لیے سرگرم ہیں۔
تحریکِ انصاف کو جماعتی انتخابات نہ کرانے کی سزا ملی، فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں ہے، سرٹیفکیٹ دوسری جماعت کا جمع کرایا اور کہا کہ منسلک تحریکِ انصاف سے ہوں۔ اسوقت کے صدر عارف علوی نے اختیار ہونے کے باوجود الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست مسترد، ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنایا گیا سات، سات برس قید کی سزاؤں کا فیصلہ برقرار۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔