کیا اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے پوچھا جائے گا کہ ان کی سرپرستی میں اور انھی کی ناک کے نیچے جنرل (ر) فیض حمید کیسے ان جرائم میں ملوث رہا؟
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
میری جنرل باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئیں جن میں جنرل باجوہ نے کہا حکومتیں توڑ دو میں الیکشن کروا دونگا۔ جنرل باجوہ نے ہمیں لال بتی کے پیچھے لگا دیا اور ہم نے اس کی بات پر یقین کر لیا۔
جنرل باجوہ نے مجھے کہا کہ اگر آپ الیکشن چاہتے ہیں تو اپنی حکومتیں گرادیں تو ہم نے اپنی حکومتیں ختم کردیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب میری حکومت ختم ہورہی تھی تو میں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ ہماری حکومت نہ گراو ہم تمہیں ایکسٹیشن دے دیے ہیں۔
نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ آنے والے عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کو سیاسی جبر،خارجہ تعلقات میں سرد مہری، سرمایہ کاری میں کمی، عدم استحکام اور دیوالیہ پن کا سامنا رہا۔ اقتدار سے عدم اعتماد کے ذریعہ نکالے جانے کے بعد عمران خان نے ملک میں افراتفری برپا رکھی جس سے بحران کا شکار ملک مزید غیر مستحکم ہورہا ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔