کیا اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے پوچھا جائے گا کہ ان کی سرپرستی میں اور انھی کی ناک کے نیچے جنرل (ر) فیض حمید کیسے ان جرائم میں ملوث رہا؟
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
میری جنرل باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئیں جن میں جنرل باجوہ نے کہا حکومتیں توڑ دو میں الیکشن کروا دونگا۔ جنرل باجوہ نے ہمیں لال بتی کے پیچھے لگا دیا اور ہم نے اس کی بات پر یقین کر لیا۔
جنرل باجوہ نے مجھے کہا کہ اگر آپ الیکشن چاہتے ہیں تو اپنی حکومتیں گرادیں تو ہم نے اپنی حکومتیں ختم کردیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب میری حکومت ختم ہورہی تھی تو میں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ ہماری حکومت نہ گراو ہم تمہیں ایکسٹیشن دے دیے ہیں۔
نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ آنے والے عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کو سیاسی جبر،خارجہ تعلقات میں سرد مہری، سرمایہ کاری میں کمی، عدم استحکام اور دیوالیہ پن کا سامنا رہا۔ اقتدار سے عدم اعتماد کے ذریعہ نکالے جانے کے بعد عمران خان نے ملک میں افراتفری برپا رکھی جس سے بحران کا شکار ملک مزید غیر مستحکم ہورہا ہے۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔