جنرل صاحب جب آرمی چیف بنے تو ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا تھا اور گزر رہا ہے اور اس کے علاوہ دہشتگردوں نے بھی دوبارہ پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کر دیے ہیں لیکن پریشان ہونے کی بات نہیں کیونکہ جو پروردگار جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بنا سکتا ہے تو وہی رب العالمین دہشتگردوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے جنرل عاصم منیر کو ہمت و توفیق عطاء فرمائے گا۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پہلے میں سمجھتا رہا کہ میرے خلاف سازش امریکہ سے آئی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ حسین حقانی نے جنرل باجوہ کیساتھ مل کر کی۔
عمران خان نے جنرل باجوہ کو سپر کنگ کا لقب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سب کچھ جنرل باجوہ کی مرضی سے ہوتا تھا ہر اچھی چیز کا کریڈٹ وہ لے لیتے تھے مجھے تو بس پنچنگ بیگ بنایا ہوا تھا ساری تنقید مجھ پر ہوتی تھی اور گالیاں بھی مجھے پڑتی تھیں۔
پچھلے دنوں جنرل باجوہ اور ساتھ اُن کے صاحبزادے کو دُبئی میں مٹر گشت کرتے ہوئے سڑک کراس کرنے کے لیے ریڈ سگنل پر بغیر حفاظتی کمانڈوز کے انتظار کرتے دیکھ کر میرا کمزور دل تو ٹوٹ ہی گیا۔
جو میں کہتا تھا کہ جنرل باجوہ نے میری حکومت گرائی وہ اب سچ ثابت ہوگیا ہے کیونکہ جنرل باجوہ نے ایک انٹرویو میں خود تسلیم کرلیا ہے کہ میری حکومت گرانے میں انکا ہاتھ تھا۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔