علی امین گنڈا پور پنجاب آئیں ہم انہیں زلفوں سے باندھ کر الٹا لٹکائیں گے، مریم نواز اور خواتین صحافیوں کے بارے میں استعمال کی گئی زبان قابلِ برداشت نہیں ہے، جنہوں نے آج اپنی اولاد کو نہیں مانا وہ باپ کو کیا مانیں گے؟ پی ٹی آئی والے اندر خانے پاؤں پکڑ رہے ہیں۔
پاکستان کی ریاست کو تسلیم نہ کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے، بلوچستان ہمارے دِلوں کے قریب ہے، ہم نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کو ختم کیا مگر پھر بعد میں ہمارے اقدامات کو ریورس کیا گیا، ہمیں ہر قیمت پر پاکستان میں امن واپس لانا ہے۔
سینٹ کے اراکین کی تنخواہ ٹیکس کٹوتی کے بعد 1 لاکھ 70 ہزار روپے جبکہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہ ٹیکس کٹوتی کے بعد 10 لاکھ روپے سے کم نہیں بنتی۔ پارلیمان کو آئین کے تحت قانون سازی کا حق حاصل ہے اور اس حق کو کسی اور ادارے کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
جج اطہر من اللّٰہ نے مجھے پراکسی کہا، ایک جج کیسے یہ جرأت کر سکتا ہے کہ وہ سینیٹر کو پراکسی کہے؟ جج نے ایوان کی توہین کی ہے، میں سینیٹ سے اطہر من اللّٰہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں، سینیٹر فیصل واوڈا۔
کابل جا کر فوٹو سیشن کروانے والوں اور طالبان حکومت کے ساتھ انگیج کرنے والوں نے ملک کی تقدیر کے ساتھ کھلواڑ کیا، پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر بڑے دہشتگردوں کو کیوں رہا کروایا گیا؟
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔