وزیرِ خزانہ کے مطابق بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم کے تحت مارک اپ سبسڈی کیلئے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، درآمدی یوریا کھاد پر سبسڈی کیلئے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیلئے صوبائی حکومتوں کی شراکت سے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی کیلئے 10 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال (2023-24) کا بجٹ منظوری کر لیا گیا جس کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں 35 فیصد تک ایڈہاک اضافہ کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے اعلان کے بعد آج ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ 27 روپے کمی کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں بھی کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 8 روپے کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 5 روپے کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 262 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 253 روپے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔
چین نے جون میں قرضوں کی دو اہم ادائیگیوں کو پورا کرنے میں پاکستان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کی کل مالیت 2.3 بلین ڈالر ہے، توقع ہے کہ 1.3 بلین ڈالر کے تجارتی قرضوں کی ری فنانسنگ اور چین کی جانب سے 1 بلین ڈالر کے قرض سے پاکستان کو فوری طور پر ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد ملے گی۔
পাকিস্তান টি-টোয়েন্টি বিশ্বকাপ ২০২৬-এ অংশ নেবে, তবে জাতীয় দল ১৫ ফেব্রুয়ারি ভারতের বিপক্ষে নির্ধারিত ম্যাচে অংশগ্রহণ করবে না। বাংলাদেশের অংশগ্রহণে অস্বীকৃতির পর পাকিস্তান এই সিদ্ধান্ত নিয়েছে জাতীয় স্বার্থ, খেলোয়াড়দের নিরাপত্তা এবং নীতিগত অবস্থানের ভিত্তিতে।
Pakistan has confirmed its participation in the T20 World Cup 2026, but the national team will not take the field against India on 15 February, with officials citing national interest, player safety and a principled position after Bangladesh declined to participate.
پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کا اعلان کر دیا تاہم حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم 15 فروری کو بھارت کے خلاف کولمبو میں شیڈول میچ میں حصہ نہیں لے گی۔ فیصلہ قومی مفاد، کھلاڑیوں کی سلامتی اور اصولی مؤقف کے تحت کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھارتی حمایت یافتہ ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کے خلاف آپریشنز جاری، نوشکی میں بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے 12 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ کلیئرنس کارروائیوں میں اب تک 16 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔
بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کے عزائم خاک میں مل گئے، پاکستان کی بہادر افواج نے 133 دہشتگرد ہلاک کر دیئے، دہشتگرد حملوں میں خواتین و بچوں سمیت 18 شہری اور سیکیورٹی فورسز کے 15 اہلکار شہید ہوئے، دہشتگردی کے مکمل خاتمہ تک آپریشنز جاری رکھیں گے۔