پاکستان سٹاک مارکیٹ نے نئی تاریخ رقم کردی۔ 100 انڈیکس نے تاریخ میں پہلی مرتبہ لاکھ پوائنٹس کا سنگ میل عبور کرلیا۔ کاروباری دن کے آغاز میں ہی زبردست تیزی دیکھی گئی اور 100 انڈیکس نے 1 لاکھ 368 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ کر ایک نئی بلندی کو چھولیا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے نئی تاریخ رقم کردی، 100 انڈکس پہلی مرتبہ 97,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرگیا۔ کاروباری ہفتہ کے تیسرے روز سٹاک مارکیٹ 1500 سے زائد پوائنٹس کے اضافہ کیساتھ 97,000 کی تاریخی سطح عبور کرگئی۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان، سٹاک ایکسچینج میں 94 ہزار کی نفسیاتی حد عبور ہو گئی، بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں اب تک 670 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے آخری روز بھی زبردست تیزی، 100 انڈکس نے 93,000 ریکارڈ پوائنٹس کی سطح عبور کرلی۔ سٹاک مارکیٹ 400 سے زائد پوائنٹس اضافہ کیساتھ 93,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرگئی۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رحجان جاری، 100 انڈکس سے 700 زائد پوانٹس اضافہ کیساتھ 87,000 پوانٹس کی سطح عبور کرگیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد اور معیشت میں استحکام ہے۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔