سنی اتحاد کونسل ایک نشست بھی نہ جیت سکی، حامد رضا نے اپنی جماعت سے الیکشن نہ لڑا، آزاد ارکان سنی اتحاد کونسل میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟ پی ٹی آئی فریق بھی نہ تھی، نشستیں کیسے دی جا سکتی ہیں؟
مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے میں بار بار آئین کو توڑا گیا ہے۔ عدلیہ کبھی کسی مارشل لاء کے سامنے کھڑی نہیں ہوئی مگر پارلیمنٹ کی آئینی ترمیم پر شور برپا ہے، عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں مگر آئینی بالادستی پر سمجھوتا نہیں کر سکتے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مخصوص نشستوں کے کیس کے فیصلہ سے متعلق الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستوں پر 8 ججز کی جانب سے جاری کیے گئے وضاحتی حکم پر رجسٹرار سپریم کورٹ سے 9 اہم سوالات کا جواب طلب کر لیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ ہے، الیکشن کمیشن نے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا تو اسکے سنگین نتائج ہوں گے، واضح معاملہ کو پیچیدہ بنانے کی کوشش مسترد کی جاتی ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ امتیازی اور ایک پارٹی کے حق میں ہے، پی ٹی آئی کیس میں فریق نہ تھی، الیکشن کمیشن کبھی اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ نے فیصلہ میں آئین و قانون کے آرٹیکلز و شقوں کو نظر انداز کیا اور عدالتی دائرہِ اختیار سے تجاوز کیا، جولائی 12 کا فیصلہ واپس لیا جائے.
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔