فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران بحران میں پاکستان کے سب سے اہم سفارتی چہرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ تہران، واشنگٹن اور خلیجی دارالحکومتوں کے درمیان رابطہ کاری میں ان کا کردار مرکزی رہا، جبکہ پاکستان ایک غیر متوقع مگر مؤثر ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
Trump signals visit Pakistan if a US–Iran deal is signed in Islamabad, praising Field Marshal Asim Munir and Prime Minister Shehbaz Sharif while placing Pakistan firmly at the heart of the diplomatic drive.
Iran leaves the door open after Islamabad, but says the United States must now earn its trust. Tehran says the talks were serious, while Pakistan played a central role in keeping the diplomatic channel alive, and Washington must now prove it can turn dialogue into trust.
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں آخری لمحوں میں تقریباً ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکی تھیں، مگر پاکستان نے رات بھر کی سفارت کاری سے نہ صرف جنگ بندی بچانے میں مدد دی بلکہ واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی راہ پر بھی گامزن کردیا۔
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.