Interior Minister Mohsin Naqvi and his Qatari counterpart agreed to deepen security cooperation in Doha this week, as Pakistan and Qatar push behind the scenes to salvage the Islamabad MoU and bring Washington and Tehran back to the table.
Kuwait's Amir has formally ratified the defence cooperation agreement with Pakistan by decree, published in the official gazette. The agreement covers training, logistics, military intelligence, defence industries and a joint military committee.
Security forces launched Operation Al Azm in Mastung's Tehsil Khad Kucha, killing 15 terrorists and wounding 12, according to security sources. Eight suspects were detained, one hideout destroyed and a large cache of weapons seized. No casualties were reported among security forces.
Prime Minister Shehbaz Sharif has condemned Houthi attacks on Saudi oil tankers and reaffirmed Pakistan's full support for the Kingdom during a call with Crown Prince Mohammed bin Salman. Both leaders pledged closer cooperation to protect regional stability and vital maritime trade routes.
وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ۔ بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
پنجاب اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز 197 ووٹ لیکرپنجاب کے 21ویں وزیراعلی پنجاب منتخب ہوگئے ڈپٹی سپیکر نے نتیجہ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پرویز الہی کو کوئی ووٹ نہیں پڑا۔
قائد ایوان منتخب ہونے کیلئے 186 ووٹ درکار تھے لیکن حمزہ شہباز نے اس سے 11 زیادہ ووٹ حاصل کیے اورانکو 197 ووٹ ملے۔
آج جب اجلاس شروع ہوا تو اسمبلی میدان جنگ بن گئی ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے جب اجلاس کی کاروائی شروع کی تو ان پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کےاراکین نے ڈپٹی اسپیکرکو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر انکی سیکیورٹی نے بڑی مشکل سے انکوایوان سے وہاں نکالا۔
واضع رہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق نے انتخاب کا بائیکاٹ کردیا تھا۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔