ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کیلئے پاکستانی ثالثی کے ذریعہ نئی 14 نکاتی تجویز پیش کر دی۔ جنگ بندی مذاکرات اور اعتماد سازی کیلئے امریکی اقدامات پر مرکوز ترمیمی تجویز پاکستانی ثالثی کے ذریعہ امریکیوں کے سامنے پیش کی جائے گی۔
On the first anniversary of Marka-e-Haq, Pakistan's military has dismissed the Indian Army Chief's "geography or history" warning as the rhetoric of a state suffering "a bankruptcy of cognitive capacities", and has reminded Delhi that any attempt to target a nuclear neighbour would be neither geographically confined nor politically survivable.
Senior US Congressman Jack Bergman, Co-Chair of the Congressional Pakistan Caucus, has formally thanked Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir for Pakistan's role in the ongoing US-Iran peace negotiations, describing Islamabad's contribution as "indispensable" and a demonstration of "true statesmanship" in a letter dated 15 May and sent on House of Representatives letterhead.
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
پنجاب اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز 197 ووٹ لیکرپنجاب کے 21ویں وزیراعلی پنجاب منتخب ہوگئے ڈپٹی سپیکر نے نتیجہ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پرویز الہی کو کوئی ووٹ نہیں پڑا۔
قائد ایوان منتخب ہونے کیلئے 186 ووٹ درکار تھے لیکن حمزہ شہباز نے اس سے 11 زیادہ ووٹ حاصل کیے اورانکو 197 ووٹ ملے۔
آج جب اجلاس شروع ہوا تو اسمبلی میدان جنگ بن گئی ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے جب اجلاس کی کاروائی شروع کی تو ان پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کےاراکین نے ڈپٹی اسپیکرکو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر انکی سیکیورٹی نے بڑی مشکل سے انکوایوان سے وہاں نکالا۔
واضع رہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق نے انتخاب کا بائیکاٹ کردیا تھا۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔