ڈالر کی اڑان مصنوعی ہے، جلد نیچے آجائیگا، اسحاق ڈار

ڈالر کا ریٹ اس وقت مصنوعی ہے روپے پر اسوقت نفسیاتی دباو ہے اسکی اصل ویلیو 160/70 سے زیادہ نہیں اس پر کام ہورہا ہے اور ان شا اللہ اسکو جلد اسکی اصل قیمت پر لائینگے۔

Translating from the Urdu… 0 of 2 Read the original

A file photo of former finance minister Mohammad Ishaq Dar is shown.
A file photo of former finance minister Mohammad Ishaq Dar is shown.

مسلم لیگ ن کے اہم رہنما سابق وزیرخزانہ سینیٹر اسحق ڈار کا کہنا ہے کہ جو حالات آج ہیں ان جیسے برے حالات سے مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کی قیادت میں پہلے بھی دو مرتبہ سامنا کرچکی ہے اور ان سے بڑی کامیابی سے نبرد آزما ہوئے ہیں مسئلہ اب بھی ہے لیکن ہم اس سے نبٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جیسا ہم پہلے بھی کرچکے ہیں مہنگائی کے باعث جو بری حالت پچھلی حکومت نے عوام کی کردی ہے اسکے بعد میاں نواز شریف بڑے کلئیر ہیں کہ ان حالات میں عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ کسی صورت نہیں ڈالا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ جو سبسڈیز عمران نیازی حکومت نے دیں وہ فنڈڈ نہیں تھیں اور اسی وجہ سے سارا مسئلہ آرہا ہے اسی لیے ہم اب آئی ایم ایف کو engage کرنے کی کوشش کررہی ہیں نہ میاں نواز شریف اور نہ ہی ہماری اتحادی کسی صورت عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کو تیار ہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ڈالر کا ریٹ اس وقت مصنوعی ہے روپے پر اسوقت نفسیاتی دباو ہے اسکی اصل ویلیو 160/70 سے زیادہ نہیں اس پر کام ہورہا ہے اور ان شا اللہ اسکو جلد اسکی اصل قیمت پر لائینگے جیسے اس سے پہلے بھی ہم کرچکے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے موجودہ صورتحال کو چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے تمام حالات کو اپنے اتحادیوں کے سامنے رکھا ہے اور اس چیلنج سے تمام اتحادیوں سے ملکر نبٹیں گے۔

سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ اگر ہم ایٹمی دھماکوں کے بعد معاشی پابندیوں  سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں پاکستان کے بری معاشی حالات سے پہلے بھی نبردآزما ہوسکتے ہیں تو موجودہ حالات سے بھی کامیابی سے نبردآزما ہو سکتے ہیں اور یہ قومی خدمت ہے جس سے تمام اتحادی مل کر نبٹ سکتے ہیں۔

جلدی الیکشن کے باتوں کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر جلدی الیکشن کروا بھی دیے جائیں تو کیا پھر کوئی فرشتے آجائیں گے ملک کے برے حالات سے نبٹنےکیلئے پھر بھی تو انہی سیاسی جماعتوں نے آنا ہے انہی سیاستدانوں نے آکر نبٹنا ہے ان حالات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں بالکہ نبٹنے کی ضرورت ہےان شا اللہ آنےوالے دنوں میں آپکو بہتری ہوتی نظر آئیگی۔

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.