ڈٹ کر نہیں بلکہ پاؤں پڑا تھا کپتان، مریم نواز

فتنے فسادی انتشار کا مینڈیٹ بھی دو نمبر اسکا بیانیہ بھی دو نمبر اسکا جعلی خط بھی دو نمبراسکا عالمی سازش کا ڈرامہ بھی دو نمبراسکا انقلاب بھی دو نمبراور انقلابیوں لیڈر عمران خان بھی دو نمبر۔

Translating from the Urdu… 0 of 3 Read the original

A file photo is shown of PML(N) vice president Maryam Nawaz addressing a congregation at Mansehra.
A file photo is shown of PML(N) vice president Maryam Nawaz addressing a congregation at Mansehra.

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے مانسہرہ میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جم غفیر کو دیکھتے ہوئے یقین آگیا ہے کہاللہ تعالی کے فضل و کرم سے مانسہرہ نواز شریف کا تھا نواز شریف کا ہے اور نواز شریف کا رہے گا ہزارہ نواز شریف کا تھا نواز شریف کا ہے او ان شا اللہ نواز شریف کا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف سے اسلئے بھی محبت ہے کیونکہ یہ میرے شفیق چچا اور دوسرے والد ہیں ان سے اسلئے بھی محبت ہے کیونکہ شہباز شریف پاکستان کا حقیقی معنوں میں خدمت گار ہے جیسے انہوں نے پنجاب کی تقدیر بدلی اور ان شا اللہ پاکستان کی قسمت بھی بدل دینگے۔

مریم نواز نے کہا کہ پاکستان سے وعدہ کرتی ہوں کہ جو زخم عمران خان نے اپنی نااہلی نالائقی بے حسی سے پاکستان کے سینے پر لگائے جو کاری ضربیں پاکستان کی معیشت پر لگائیں وہ زخم ان شا اللہ شہباز شریف اور نواز شریف اپنی محنت سے بھر کر جائینگے۔

مریم نوازکا اس موقع پر کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ کو مبارکباد کیونکہ انہوں نے انتشار اور فتنے پر مبنی لانگ مارچ کو ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ کر ریجیکٹ کردیا۔

لیگی نائب صدر نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ناکام ترین دھرنا جسکا اصل مقصد فتنہ اور انتشار تھا پختونخواہ کے عوام کی کمائی حکومتی وسائل جن پر عوام کا حق تھا وہ تمام وسائل اپنے ناکام انتشار دھرنے پر لگا دیے پختونخواہ کا حق ایک ناکام دھرنے اور انتشار کی نظر ہوگیا۔

مریم نواز نے کہا کہ ناکام دھرنے میں جس ہیلی کاپٹر میں عمران خان بیٹھ کر آیا وہ فرح گوگی کا ہیلی کاپٹر نہیں تھا وہ گوگی  جسکی لوٹ مار والی مال گاڑی پنجاب سے چل کر پختونخواہ میں جاتی تھی اسکا نہیں بالکہ پختونخواہ کا سرکاری ہیلی کاپٹر تھا جس کو اس ملک کو آگ لگانے کیلئے استعمال کیا گیا انہوں نے مزید کہا کہ انتشار دھرنے کیلئے جو گاڑیاں استعمال ہوئیں وہ پختونخواہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں تھیں وہ کرینیں جو یہ لیکر اسلام آباد آرہا تھا وہ بھی پختونخواہ کی سرکاری کرینیں تھیں۔

نائب صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ جسکو یہ انقلاب کا نام دیتا ہے وہ اسلئے ناکام ہوگیا کیونکہ قوم کے بچوں کو سڑکوں پر مرنے کیلئے لے آیا جبکہ اسکے اپنے بچے لندن کی ٹھنڈی ہواووں میں آرام سے بیٹھے ہوئے تھے۔

مریم نواز نے کہا کہ انقلاب ہیلی کاپٹر سے نہیں پیراشوٹ سے لینڈ کرنے سرکاری گاڑیوں سے نہیں عین وقت پر یو ٹرن لیکر بنی گالہ بھاگ جانے سے نہیں آتا انقلاب آتا ہےجب نواز شریف ججز بحالی کیلئے تمام  ریاستی جبررکاوٹوں کے باوجود لاہور سے نکلتا ہے تو گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے ججز بحال ہوجاتے ہیں۔

مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ

فتنے فسادی انتشار کا مینڈیٹ بھی دو نمبر

 اسکا بیانیہ بھی دو نمبر

 اسکا جعلی خط بھی دو نمبر

 اسکا عالمی سازش کا ڈرامہ بھی دو نمبر

اسکا انقلاب بھی دو نمبر

اور انقلابیوں لیڈر عمران خان بھی دو نمبر

ن لیگی نائب صدر نے کہا کہ اسکو تو حکومت نے صرف اسلام آباد سے نکالا تھا بنی گالہ سے تو نہیں نکالا تھا لیکن پھر پشاور کیوں گرفتاری سے ڈر سے بھاگ گیا اور وہیں بیٹھا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو طعنے دینے والا کہتا ہے سپر پاور امریکہ مجھ سے ڈرتا ہے تو ذرا دیکھو سپر پاور کو طعنے دینے والا خود گرفتاری کے ڈر سے پشاور کے بنکر میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ لوگوں کو کہنے والا کہ

ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان

تو حقیقت میں اس وقت پاوں پڑا تھا کپتان

اور آڈیو لیک نے اسکی حقیقت سب کے سامنے عیاں کردی ہے

مریم نواز نے کہا کہ جب اس نے دیکھا کہ لانگ مارچ اور اسکے انتشار پر عوام کان نہیں دھر رہی اور یہ ناکام ہوجائیگا تو اس نے نواز شریف کو پیغام بھجوایا کہ میں لانگ مارچ نہیں کرنا چاہتا آپ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیں تو اسکو جواب آیا جتنے لانگ مارچ کرنے ہیں کرو حکومت تو یہی رہیگی۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ابھی انکی حکومت کا چالیسواں بھی نہیں ہوا لیکن شہباز شریف نے آٹے کی قیمت اسی سے چالیس روپے کردی ہے ابھی انکی حکومت کا چالیسواں نہیں ہوا لیکن شہباز شریف نے چینی 120 سے 80 روپے پر کردی ہے۔

آخر میں مریم نواز نے حبیب جالب کا یہ شعر پڑھا

یہ جو تنہا وطن کے مامے ہیں

لمبے لمبے معافی نامے ہیں۔

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.