9.9 C
Islamabad
Thu, 24 November 2022

جعلی صوفیانہ انداز اور اصلی گوگیانہ کرپشن

جعلی صوفیانہ انداز اور اصلی گوگیانہ کرپشن

اپنے دور میں ترقی کے بلند دعوے کرتے رہتے والے عمران خان کی باتیں سن کر ہماری سادہ لوح قوم یہ سمجھتی رہی کہ شاید خان صاحب ہماری ترقی کی بات کر رہے ہیں جبکہ اصل میں خان صاحب قومی ترقی کی نہیں گوگی کی ترقی کی بات کرتے تھے۔

- Advertisement -

MPA PML(N) | + other posts

Hina Butt is a LUMS graduate and currently serves as an MPA for the PML(N) in the Provincial Assembly of the Punjab. A close aide to Maryam Nawaz, she tweets @hinaparvezbutt.

میں مغرب کو سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ چین والے سپیڈ کی لائٹ سے ٹرین چلانے والے ہیں۔ جرمنی اور جاپان کے بارڈر پر انڈسٹری لگائی گئی۔ پاکستان میں سال میں بارہ موسم ہوتے ہیں۔ ہم عوام کو دیسی مرغیاں، انڈے اور وچھے، جسے کٹا کہتے ہیں، دیں گے۔ ہم بیر کے درخت لگا کر شہد حاصل کر کے قرضہ اتاریں گے۔ ہم بھنگ کی کاشت سے ملک کو ترقی دیں گے۔ یہ تمام بیانات پڑھ کر انسان یہی سوچتا ہے کہ یہ باتیں  کوئی ذی ہوش انسان نہیں کر سکتا، ایسی گفتگو کرنے والا یا تو یقنی طور پر نشے کا عادی ہے یا بالکل ہی ذہنی طور پر مخبوط الحواس ہے یا پھر اس میں دونوں مسئلے ہیں۔

اپنے دور میں ترقی کے بلند دعوے کرتے رہتے والے عمران خان کی باتیں سن کر ہماری سادہ لوح قوم یہ سمجھتی رہی کہ شاید خان صاحب ہماری ترقی کی بات کر رہے ہیں جبکہ اصل میں خان صاحب قومی ترقی کی نہیں گوگی کی ترقی کی بات کرتے تھے۔ خان صاحب جب یہ کہتے تھے کہ میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا تو معصوم عوام سمجھتے تھے کہ وہ کرپٹ لوگوں کو سزا دلوائیں گے جبکہ اصل میں خان صاحب کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ ہر کرپٹ سے اپنا حصہ ضرور لیں گے اور حصہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ خان صاحب جب کہتے تھے کہ میں ملک کو اوپر اٹھاؤں گا تو ان کا مطلب کرپشن انڈکس میں اوپر اٹھانا ہوتا تھا۔ جب یہ کہتے تھے کہ میں سونامی لاؤں گا تو ان کے حمایتی بھی سمجھتے تھے کہ شاید یہ کوئی انقلاب لائیں گے مگر ان کا اصل مطلب یہ ہوتا تھا کہ میں ملک میں تباہی لاؤں گا اور وہ لے کر آئے بھی، یہ عمران خان کا واحد وعدہ تھا جس پر عمران خان نے یو ٹرن نہیں لیا۔

پڑھیں: لائٹس، گوگی، ایکشن

خان صاحب اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں کوئی نہیں خرید سکتا، سچ کہتے ہیں، کیونکہ خان صاحب کرائے پر دستیاب ہیں۔ کرایہ دو، دوائیاں مہنگی کروا لو۔ کرایہ دو، آٹا مہنگا کروا لو۔ کرایہ دو، چینی کی قیمت زیادہ کروا لو۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ خان صاحب کا کرائے والا بزنس اتنا پھیل چکا تھا کہ انہیں کرایہ اکٹھا کرنے کے لیے اپنے ایجنٹ رکھنے پڑے۔ ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر جعلی صوفیانہ انداز اپنائے ہوئے خان صاحب خود خیرات اور زکوٰۃ لیتے رہے اور ان کے ایجنٹ پانچ پانچ قیراط لیتے رہے۔خان صاحب صدقہ کھاتے رہے، ان کے ایجنٹ ان کے صدقے کھاتے رہے۔ قوم کو لنگر خانوں پر لگا کر ان کے ایجنٹ اپنے کاروبار چمکاتے رہے۔ قوم کو کہا پچاس لاکھ گھر دوں گا، فرحت ان کے ایجنٹوں کے رئیل ایسٹیٹ بزنس کو لگ گئی۔قوم کو کہا رحونیت سکھاؤں گا، صوفی یونیورسٹی کی زمین اپنے اور اپنے ایجنٹوں کے نام کروا لی۔ کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دوں گا، قوم کو بیروزگاری کے کوڑے لگاتے رہے۔

سیاست کے اس ڈبہ پیر کی داستانیں طلسم ہوشربا کو بھی مات دیتی ہیں۔ یہ ایسے مافوق الفطرت ہیں کہ انہوں نے خریدی ہوئی زمین وراثت کے طور پر اپنے نام کروا لی تا کہ ٹیکس بچایا جا سکے۔ قوم کو جو یہ بچت کا درس دیتے تھے، اس کا آڑ میں خود ٹیکس بچاتے رہے۔ گھر آئے مہمانوں کو چائے ساتھ بیشک زیرہ بسکٹ بھی نہ دیتے ہوں مگر خود ہیرہ طلب کر لیتے تھے۔ آپ خود سوچیں وہ تالہ کس قدر مہنگے خزانے کا تھا جس کی چابی ہیرے کی انگوٹھی تھی۔ خان صاحب بے ایمانی کا کام بھی اس قدر بےایمانی سے کرتے تھے کہ رشوت دینے والے بھی ان پر اعتبار نہیں کرتے تھے کہ کہیں کم مالیت والی چابی بھی ہڑپ نہ کر جائیں۔خان صاحب کی کرپشن پارٹنرشپ اس لیول کی تھی کہ ایک پارٹنر نے سرکاری توشہ خانے سے گھڑی ہڑپ کی تو دوسرے نے غیرسرکاری مال خانے سے انگوٹھی ہتھیا لے لی۔ایک پارٹنر نے خیبر پختونخواہ حکومت کے ہیلی کاپٹر کو غیر قانونی استعمال کر کے فضائیہ کرپشن کی تو دوسرے نے پشاور میں بحریہ کرپشن میں نام بنایا۔ایک پارٹنر نے اگر کسی زمانے میں آف شور کمپنی بنا کر وائیٹ کالر کرائم کیا تھا تو دوسرے نے اس دور میں وائیٹ عبایہ کرائم میں اپنا سکہ جما لیا۔

اگر یہ فسطائی دور جاری رہتا تو پتہ نہیں کرپشن، بدعنوانی اور لوٹ مار کا سلسلہ کہاں تک طوالت اختیار کر جاتا اور چونکہ لالچ کا کوئی اختتام نہیں ہوتا، یہ بڑھتی رہتی ہے تو عین ممکن ہے کہ کرپشن کا یہ سلسہ تین قیراط، پانچ قیراط سے بڑھ کر سات قیراط یا نو قیراط تک پہنچ جاتا مگر اس بدعنوان کی ٹولے کی بدقسمتی اور پاکستانی عوام کی خوش قسمتی یہ ہوئی کہ عمران خان اور کرپٹ ٹولے کی قسمت میں نو قیراط نہیں آئے بلکہ ہم پاکستانیوں کے حصے میں نو اپریل کی رات آ گئی اور ہماری ان سے جان خلاصی ہو گئی۔

- Advertisement -

تھرسڈے ٹائمز نیوز لیٹر کو سبسکرائب کیجئے

خبریں اور اداریے براہ راست سب سے پہلے اپنی ای میل میں حاصل کریں۔

Your information will be processed in accordance with our data usage policy

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

RELATED ARTICLES