پونے چار برس اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کے بعد بھی جب معیشت کو کنٹرول نہ کرسکے اور آئی ایم ایف کیساتھ نیا معاہد کرنا پڑا جب اپنی بری مس منیجمنٹ اور نااہلی کے باعث اقتدار کی کرسی کھسکنے لگی تو اسی آئی ایم ایف کےپروگرام کوڈی ریل کرنے کیلئے ایسے اقدامات کیے گئے جس سے ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا اور پھر ساتھ ہی غیر ملکی خط اور سازش کا ایک بیانہ گھڑا گیا اور اس سازش کودنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کیساتھ جوڑ دیا گیاایک ایسا بیانیہ جسکا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا جسکو ملک کی تمام بڑی انٹیلی جس ایجنسیز نے رد کردیا کہ ایسی کوئی سازش نہیں ہوئی لیکن تحریک انصاف کے سربراہ سازش ہونے کے بیانیے پر بضد رہے کیونکہ اس بیانیے سے انکی گرتی مقبولیت اور ساکھ کو تقویت مل رہی تھی انہوں نے اپنے ذاتی اور سیاسی فائدے کیلئے ملکی مفاد کو پس پشت ڈالا اور اپنے من گھڑت بیانیے پر قائم رہے۔
جب عمران خان ملک کے طول و عرض میں اقتدار سے نکلنے کے بعد پورے زور شور سے جلسے جلوس کررہے تھے اوراپنے خلاف ہونے والی سازش کے بیانیے کو پروان چڑھانے میں مصروف تھے تو عین اسی وقت اسی سپر پاورامریکہ جس پرسازش کرنے کا الزام لگا رہے تھے اسکے ساتھ اپنے تعلقات بہتر اور مضبوط کرنے کیلئے ہزاروں ڈالر ماہانہ پر ایک پبلک ریلیشنز فرم ہائر کی گئی جو تعلقات کی بہتری کیلئے کام کرتی لیکن ادھر پاکستانی عوام کو ایک خیالی سازش کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کرملکی مفاد پر اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کو ترجیح دی جاتی رہی۔
اب جب آئی ایم ایف سے موجودہ حکومت کا معاہدہ عین ہونے کے قریب ہے توتحریک انصاف کی پختونخواہ حکومت نے آئی ایم ایف کیساتھ ہونے والے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جسکا ثبوت آج ہی کے روز سابق وزیرخزانہ شوکت ترین اور پنجاب اور پختونخواہ کے وزرائے خزانہ کہ ہونے والی آڈیو لیک ہے۔
اس سب کے بعد فیصلہ اب پاکستانی عوام نے کرنا ہے کہ مملکت پاکستان اور پاکستانی عوام کیخلاف اصل سازش کون کررہا ہے!۔
∎



