جنرل باجوہ نے میری حکومت گرانے کا خود اعتراف کر لیا، عمران خان

جو میں کہتا تھا کہ جنرل باجوہ نے میری حکومت گرائی وہ اب سچ ثابت ہوگیا ہے کیونکہ جنرل باجوہ نے ایک انٹرویو میں خود تسلیم کرلیا ہے کہ میری حکومت گرانے میں انکا ہاتھ تھا۔

Translating from the Urdu… 0 of 2 Read the original

A file photo shows former COAS Bajwa sitting alongside PTI president Imran Khan.
A file photo shows former COAS Bajwa sitting alongside PTI president Imran Khan.

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جو میں کہتا تھا کہ جنرل باجوہ نے میری حکومت گرائی وہ اب سچ ثابت ہوگیا ہے کیونکہ جنرل باجوہ نے ایک انٹرویو میں خود تسلیم کرلیا ہے کہ میری حکومت گرانے میں انکا ہاتھ تھا یہ بات عمران خان نے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت پی ڈی ایم اور جنرل باجوہ سمیت سب نے مل کر گرائی اور رجیم چینج کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔

سربراہ تحریک انصاف نے کہا کہ پنجاب اور پختونخواہ میں جتنی جانبدار کیئرٹیکرزحکومتیں بنائی گئی ہیں اسکی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

عمران خان نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ نوے روز سے آگے انتخابات نہیں جائینگے کیونکہ کیس عدالت میں ہے۔

سربراہ تحریک انصاف نے کہا کہ اسوقت بھی جنرل باجوہ کی پالیسیاں چل رہی ہیں اور پاکستان کے جو آج حالات ہیں وہ اس سے قبل کبھی نہیں تھے۔

سربراہ تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ جنرل باجوہ نے جو بیان دیے ہیں اس پر انکے کیخلاف فوج کے اندر سے انکوائری ہونی چاہیے اور قوم جو سمجھتی تھی کہ جنرل باجوہ نے ہماری حکومت گرائی ہے اس سے جنرل باجوہ نے خود ہی کہ کہہ کر پردہ ہٹا دیا ہے کہ ہماری حکومت انہوں نے گرائی۔

امریکی صدرجو بائیڈن کیساتھ تعلقات بہتر نہ ہونے کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ اسکی وجہ افغانستان ہے اور میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

جیل بھرو تحریک اور جیل جانے کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاس دو راستے تھے ایک انتشار اور دوسرا جیل بھرنے والا اور ہم نے جیل بھرنے والی آپشن کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے گرفتاری اور جیل جانے کا کوئی خوف نہیں ہے میں تو جیل چلاجاونگا لیکن کیا یہ حکومت اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ برداشت کرلے گی۔

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.