جو لوگ کہتے تھے پاکستان ڈیفالٹ کرجائیگا انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے، اسحاق ڈار

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، اس معاہدے کیلئے وزیراعظم صاحب نے بہت محنت کی ہے اور اس حوالے سے پچھلے 10 دن بہت اہم تھے، پاکستان سری لنکا بننے والا ملک نہیں ہے، اگر آئی ایم ایف نہ بھی ہوتا تب بھی ہم ڈیفالٹ نہ کرتے، ہمارے پاس پلان بی موجود تھا۔

Translating from the Urdu… 0 of 2 Read the original

Pakistani finance minister Ishaq Dar is pictured at Yokohama in 2017. — KIYOSHI OTA/BLOOMBERG
Pakistani finance minister Ishaq Dar is pictured at Yokohama in 2017. — KIYOSHI OTA/BLOOMBERG

لاہور—وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ اطلاعات محترمہ مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں ہو گا، یہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ ہونے والا ملک نہیں ہے، جو لوگ کہتے تھے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرے گا انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے۔

وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میاں نواز شریف نے پاکستان کو دنیا کی 24ویں معیشت کے طور پر چھوڑا تھا لیکن پچھلی حکومت اسے 47ویں نمبر پر لے گئی، ہم انشاءاللّٰه پاکستان کو دوبارہ دنیا کی بیس بڑی اکانومیز میں لے کر جائیں گے اور یہ ہر گز ناممکن نہیں ہے، پاکستان قدرتی اثاثوں سے مالا مال ملک ہے جس کے پاس 600 ارب ڈالرز کی معدنیات ہیں۔ جو لوگ ملک کے اندر اور باہر مایوسی پھیلاتے رہے اور جن کی ایک ہی رٹ تھی کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے، الحمدللّٰه ہم نے اپنی ہر بیرونی ادائیگی وقت پر کی ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، اس معاہدے کیلئے وزیراعظم صاحب نے بہت محنت کی ہے اور اس حوالے سے پچھلے 10 دن بہت اہم تھے، پاکستان سری لنکا بننے والا ملک نہیں ہے، اگر آئی ایم ایف نہ بھی ہوتا تب بھی ہم ڈیفالٹ نہ کرتے، ہمارے پاس پلان بی موجود تھا،

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہم نقصانات کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انشاءاللّٰه ہم اپنے تمام وعدے پورے کریں گے، ہمارا پلان ہے کہ انشاءاللّٰه موجودہ حکومت کا وقت ختم ہونے سے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 15 بلین ڈالرز تک پہنچ جائیں گے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.