Columns

News

پنجاب کی نامزد وزیراعلی مریم نواز نے اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا

پنجاب کی نامزد خاتون وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اب پنجاب میں خدمت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے غلط بیانی کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگ لی

میں نے ایک سیاسی جماعت کے بہکانے پر غلط بیان دیا تھا جو صریحاً غیر ذمہ دارانہ عمل تھا، اس منصوبے کو ایک سیاسی جماعت کی بھرپور حمایت حاصل ہے، چیف جسٹس کا نام جان بوجھ کر شامل کیا گیا، قوم سے معافی چاہتا ہوں۔

حضرت محمدﷺ اللّٰه کے آخری نبی ہیں اور انکو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، آپﷺ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ تمام انسانوں سمیت اللّٰه کی تمام مخلوقات کیلئے بھی رحمت ہیں، آپﷺ کے بعد اب کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا اور اسکے بعد بات ختم ہوجاتی ہے۔

جج کے مستعفی ہونے سے اس کے خلاف جاری کارروائی ختم نہیں ہو گی، سپریم کورٹ

کسی جج کے خلاف ایک بار کارروائی شروع ہو جائے تو پھر اس جج کے مستعفی ہونے سے کارروائی ختم نہیں ہو گی، ریٹائرڈ ججز کے خلاف زیرِ التواء شکایات پر کارروائی کرنا یا نہ کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے، سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سنا دیا۔

پاکستان اور پنجاب کی پہلی خاتون وزیرِ اعلٰی ہونا میرے لیے اعزاز ہے، مریم نواز

پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعلٰی ہونا اعزاز ہے، یہ اعزاز پاکستان کی ہر ماں، ہر بہن اور ہر بیٹی کے نام کرتی ہوں، عوامی خدمت کی روشن روایات قائم رکھیں گے۔نامزد وزیرِ اعلٰی پنجاب مریم نواز کا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب، اجلاس میں 218 منتخب اراکین شریک تھے۔
Analysisغزہ میں مارے گئے بچوں اور خواتین کی تعداد دو سالہ روسی...

غزہ میں مارے گئے بچوں اور خواتین کی تعداد دو سالہ روسی حملوں میں یوکرین سے دوگنی ہو چکی ہے، نیو یارک ٹائمز

غزہ میں مارے گئے بچوں و خواتین کی تعداد روسی حملوں میں یوکرینی اموات سے دوگنی ہو چکی ہے۔ غزہ کے شہریوں کی اموات کی رفتار عراق، شام، افغانستان میں امریکی فوجی مہمات سے زیادہ ہے۔

spot_img

نیویارک/غزہ (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ”نیو یارک ٹائمز“ کے مطابق غزہ کے نہتے شہری تاریخی رفتار سے مارے جا رہے ہیں، یہ رفتار امریکہ کی جانب سے عراق، شام اور افغانستان میں فوجی مہمات کے مہلک ترین لمحات سے بھی زیادہ ہے جبکہ مارے جانے والے بچوں اور خواتین کی تعداد تقریباً دو سال کے روسی حملوں کے بعد یوکرین کے مقابلہ میں دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے غزہ پٹی میں نہتے شہریوں کے مارے جانے کو افسوسناک مگر جدید دور کے تنازعات میں ناگزیر قرار دیا ہے جو کہ یقینی طور پر امریکہ کی جانب سے عراق اور شام میں کی گئی فوجی مہمات کے نتیجہ میں ہونے والے بھاری انسانی نقصانات کی طرف اشارہ ہے لیکن ماضی کے تنازعات کا جائزہ اور ان میں ہتھیاروں اور اموات کے متعلق ماہرین کی رائے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسرائیل کا غزہ پر حملہ مختلف نوعیت کا ہے۔

اگرچہ جنگ کے دوران ہونے والی اموات کی تعداد کا درست تعین کبھی نہیں کیا جا سکتا مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مہم کے دوران غزہ میں تیز رفتار اموات کے اعداد و شمار رواں صدی میں سب سے زیادہ ہیں، غزہ میں شہریوں کی اموات کی رفتار امریکہ کی جانب سے عراق، شام اور افغانستان میں فوجی مہمات کے مہلک ترین لمحات سے بھی زیادہ ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے ان امریکی حملوں کو بھی وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق جنگی ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ غزہ میں کس قدر تیز رفتار سے اتنے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ ان میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے گنجان آباد شہری علاقوں میں بہت بڑے ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا ہے جن میں کسی بھی اپارٹمنٹ ٹاور کو تَہَس نَہَس کرنے کی صلاحیت رکھنے والا امریکی ساختہ 2000 پاونڈز کا بم بھی شامل ہے۔

امریکی فوجی حکام یہ مانتے ہیں کہ رواں صدی میں موصل، عراق، رقہ اور شام کے شہری علاقوں میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران 500 پاونڈز کا ہتھیار بھی زیادہ تر اہداف کیلئے بہت بڑا تھا۔

نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ایک چھوٹے سے علاقہ پر اس قدر وسیع نوعیت کے حملوں اور اتنے بڑے بموں کے استعمال کا موازنہ کرنے کیلئے ویتنام یا دوسری جنگ عظیم میں واپس جانا پڑے گا، غزہ میں عام شہریوں کی اموات کا حساب لگانا بہت مشکل ہے تاہم محققین اندازے کے طور پر 10 ہزار سے زائد خواتین اور بچوں کی اموات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ غزہ میں بچے، خواتین اور بوڑھے افراد مارے گئے ہیں لیکن اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں رپورٹ ہونے والی اموات کی تعداد پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ علاقہ حماس کے زیرِ انتظام ہے، اسرائیلی فوج نے غزہ میں اموات کے متعلق کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے لیکن کہا ہے کہ عام شہری ہماری مہم کا ہدف نہیں ہیں، اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ جنگ بندی تک 15 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ میں مارے جانے والے بچوں اور خواتین کی تعداد تقریباً دو سال کے روسی حملوں کے بعد یوکرین کے مقابلہ میں دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق غزہ میں ہونے والی اموات میں تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

برطانوی تحقیقی گروپ ”عراق باڈی کاؤنٹ“ کے مطابق 2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملوں میں پورے ایک سال کے دوران مارے جانے والے شہریوں کی تعداد تقریباً 7700 تھی جبکہ دو ماہ سے بھی کم عرصہ کے دوران غزہ میں اس سے زیادہ تعداد میں خواتین اور بچوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

براؤن یونیورسٹی کے کوسٹس آف وار پراجیکٹ کے شریک ڈائریکٹر ”نیٹا سی کرافورڈ“ کے مطابق افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی 20 سالہ جنگی مہم کے دوران 12 ہزار 400 شہریوں کی اموات ہوئیں جبکہ گزشتہ ماہ شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں سے غزہ میں مارے جانے والے بچوں اور خواتین کی تعداد بہت کم وقت میں ان اعداد و شمار کے قریب پہنچ چکی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ہتھیاروں کے تفتیش کار ”برائن کاسٹنر“ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جو بم استعمال کیے جا رہے ہیں وہ ان بموں سے بڑے ہیں جو امریکہ کی جانب سے موصل اور رقہ جیسے شہروں میں داعش کے خلاف استعمال کیے گئے تھے۔

عراق، افغانستان اور یوکرین جیسے تنازعات والے علاقوں کی نسبت غزہ نہ صرف بہت چھوٹا ہے بلکہ اسرائیل اور مصر کی طرف سے اس علاقہ کی سرحدیں بھی بند کر دی گئی ہیں، غزہ پٹی میں 60 ہزار سے زائد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں جس میں شمالی غزہ کی نصف عمارتیں بھی شامل ہیں۔

جنگ کے پہلے دو ہفتوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے غزہ پر گرائے گئے بموں میں سے تقریباً 90 فیصد سیٹلائٹ گائیڈڈ بم تھے جن کا وزن 1000 سے 2000 پاونڈز تھا، اسرائیل نے غزہ کے شمالی علاقہ “جبالیہ” پر 31 اکتوبر کے فضائی حملے میں کم از کم 2000 پاؤنڈز کا بم استعمال کیا جس سے عمارتیں تباہ ہو گئیں اور 40 فٹ تک چوڑے گڑھے بن گئے جبکہ مارے گئے 126 شہریوں میں نصف سے زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات کے مطابق 19 اکتوبر کو اسرائیل نے یونانی آرتھوڈوکس چرچ پر حملہ کیا جہاں سینکڑوں افراد پر مشتمل غزہ کی کرسچین کمیونٹی نے پناہ لے رکھی تھی اور وہ لوگ رات کا کھانا کھا رہے تھے جبکہ اس اسرائیلی حملے میں 18 شہری مارے گئے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: