خلاصہ:
-
سعودی عرب کے لچک دار رہنے کی توقع
-
منافع سے متعلق خدشات کے باعث جنوبی کوریا کی درجہ بندی میں تنزلی
-
ابھرتی ہوئی منڈیوں کے حصص کو مشکلات کا سامنا رہنے کا امکان
ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — سٹی گروپ نے ابھرتی ہوئی منڈیوں کے حصص کو متوقع مشکلات کا سامنا ہونے کے باوجود سعودی عرب کی لچک اور استحکام سے متعلق توقعات بڑھا دی ہیں، کیونکہ امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح نے معاشی غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کار ٹرمپ کی متوقع تجارتی پالیسیوں اور امریکی ڈالر کی مضبوطی کو عالمی ترقی کی راہ میں ممکنہ رکاوٹ قرار دے رہے ہیں، جس سے ابھرتی ہوئی منڈیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور سٹی گروپ کا مخصوص ممالک کے بارے میں نقطہ نظر بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور بھارت کو تجارتی خطرات کا نسبتاً کم سامنا سمجھا جا رہا ہے؛ تاہم سعودی عرب کی درجہ بندی بہتر کر دی گئی، جبکہ بھارت کی درجہ بندی میں غیر متوقع طور پر کمی کی گئی، جس کی وجہ آمدنی میں اضافے کی سست رفتار اور چین کی معاشی پالیسیوں کے باعث حالیہ دنوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا رخ تبدیل ہونا ہے۔
ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بے چینی
سٹی گروپ کی حالیہ پیش گوئی ابھرتی ہوئی منڈیوں کے حصص کے بارے میں محتاط رائے پیش کرتی ہے، جس کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیاں عالمی معاشی رفتار پر بوجھ ڈال سکتی ہیں۔ امریکی ڈالر کے مزید مضبوط ہونے کی پیش گوئی سے حالات سخت ہو سکتے ہیں، جس کا اثر تجارت پر انحصار کرنے والی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر پڑے گا۔ سٹی گروپ کا تجزیہ امریکی تجارتی پالیسی میں متوقع تبدیلیوں کے پیش نظر اتار چڑھاؤ میں اضافے کو اجاگر کرتا ہے، جو اہم منڈیوں کے لیے ترقی کے امکانات محدود کر سکتا ہے۔ ابھرتی ہوئی منڈیوں، خصوصاً ان منڈیوں کو جن کا برآمدات پر بہت زیادہ انحصار ہے، ڈالر کی مضبوطی کے باعث اضافی کمزوریوں کے ساتھ غیر یقینی ماحول کا سامنا ہے۔
سعودی عرب کی درجہ بندی میں بہتری
سٹی گروپ کی رپورٹ میں سعودی عرب ایک روشن پہلو کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں تیل برآمد کرنے والے اس سب سے بڑے ملک کی ریٹنگ بڑھا کر "اوور ویٹ" کر دی گئی ہے۔ عالمی تجارتی خطرات سے نسبتاً کم متاثر ہونا اور تیل کی منڈی کے مستحکم امکانات اس کی بہتر ریٹنگ کا سبب بنے ہیں۔ اس کے برعکس بھارت کی ریٹنگ گھٹا کر "نیوٹرل" کر دی گئی ہے، جس کی وجہ آمدنی میں اضافے کی رفتار کا سست پڑنا اور چین کے معاشی اقدامات کے باعث مارکیٹ میں بڑھتا ہوا اتار چڑھاؤ بتائی گئی ہے۔ یہ تبدیلی سٹی گروپ کے اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے کہ مضبوط بنیادوں کے باوجود بھارت کے حصص کی کارکردگی کو منافع میں جمود اور غیر ملکی سرمائے کے انخلا کی رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
منتخب خطوں میں ترقی کی پیش گوئیاں
سٹی گروپ نے مجموعی طور پر ابھرتی ہوئی منڈیوں کے لیے مشکلات کی نشاندہی کی ہے، تاہم چند منتخب ریٹنگز میں اضافہ بعض مخصوص خطوں میں ممکنہ ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ کی ریٹنگ منافع میں متوقع اضافے اور چین کے محرکاتی اقدامات سے متوقع سہارے کی بنا پر بڑھا کر "اوور ویٹ" کر دی گئی۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کی ریٹنگ گھٹا کر "انڈر ویٹ" کر دی گئی، کیونکہ کارپوریٹ منافع میں کمی اور تجارتی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال سے معاشی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ کوریا کے KOSPI انڈیکس کو سہارا دے سکتا ہے، لیکن سٹی گروپ نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی کشیدگی کے وسیع تر اثرات برآمدات، خصوصاً امریکا کو برآمدات، پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔



