اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ اگر بھارت کوئی مہم جوئی کرنا چاہتا ہے تو وہ آزما لے، پاکستان ہمیشہ تیار ہے، ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ اِس بار بھارت کو آسانی سے جانے نہیں دیا جائے گا، اگر بھارت کسی سٹریٹیجک حماقت کا ارتکاب کرتا ہے تو پاکستان کی جانب سے اُس کی قیمت بہت بھاری ہو گی اور ردِعمل نہایت سخت ہو گا، اگر بھارت ایک اور ڈراما رچا کر اُس کی آڑ میں کوئی کارروائی کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی قسمت آزما سکتا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارت کا ایک فالس فلیگ آپریشن بےنقاب کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ بھارتی کور نے 29 ستمبر کی رات ایک ٹویٹ کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر میں جوائنٹ سرچ آپریشن کے نام پر ایک نیا ڈراما رچایا، بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں لشکرِ طیبہ کا ایک کمانڈر مارا گیا ہے اور لاش بھی برآمد کر لی گئی ہے، بھارتی حکام کی جانب سے اُس شخص کی شناخت محمد آصف الیاس عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی گئی اور اُس کی ہلاکت کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ بھارتی نیوز ایجنسی نے سروس نمبر کے ساتھ تفصیلات جاری کرتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ آصف پاک فوج کا ایس ایس جی حوالدار ہے، بھارتی حکومت نے یہ من گھڑت داستان سناتے ہوئے کہا کہ وہ 2022 سے جموں و کشمیر میں مسلسل سرگرم تھا، بھارتی حکام نے اِس جعلی کارروائی کو آپریشن شیروالی کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے اور بھارتی فوج نے الزام عائد کیا کہ آصف فوجی خطہ میں متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا، اور اُس کے گروپ کے مزید 3 ارکان کو بھی مختلف کارروائیوں میں مارنے کا دعویٰ کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ درحقیقت محمد آصف زندہ ہے اور ہمارے ساتھ موجود ہے، ہمارا پالا ایک گھٹیا دشمن سے پڑا ہے جو انکاؤنٹر سپیشلسٹ ہے اور دہشتگردی کو مسائل کا حل سمجھتا ہے، ہمارے پاس بدقسمتی سے ایک ایسا پڑوسی ہے جس کو لگتا ہے کہ ہر چیز کو جھوٹ کے ذریعہ سلجھایا جا سکتا ہے، وہ پڑوسی ایک جیتے جاگتے انسان محمد آصف کو مُردَہ قرار دیتا ہے۔
اِس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاک فوج کے سابق ایس ایس جی حوالدار محمد آصف کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ اٹک کے رہائشی محمد آصف نے بتایا کہ مُجھے دوستوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر بھارتی فوج کی جانب سے مُجھے شہید کیے جانے کی خبریں چل رہی ہیں، پھر مُجھے بھارتی نمبرز سے فون کالز آنا شروع ہوئیں، سوشل میڈیا سے معلوم ہوا کہ بھارت نے میرا ڈیٹا استعمال کر کے جھوٹی کارروائی میں شہید کر دیا ہے حالانکہ میں تو گھر میں بیٹھا ہوں، میں نے یہ بات اپنے ہونٹ میں بتائی جنہوں نے مُجھے کہا کہ آپ اُن نمبرز کو بلاک کرتے جائیں اور یہ کہ آئی ایس پی آر والے آپ سے رابطہ کریں گے۔
سابق ایس ایس جی حوالدار محمد آصف نے بتایا کہ میں 2000 میں فوج میں بھرتی ہوا اور 2005 میں ایس ایس جی میں شامل ہوا، میں نے 18 برس ملازمت کی اور پھر 2023 میں ایس ایس جی سے ریٹائرڈ ہوا، بعدازاں میں نے پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی میں ڈیوٹی کی، چند ماہ سے راولپنڈی میں اپنے گھر میں رہائش پذیر ہوں، بھارت کا الزام جھوٹا اور گھناونا ہے جس کی مذمت کرتا ہوں، میں زندہ ہوں اور آپ کے سامنے ہوں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشتگردی بھارت کا پرانا ہتھکنڈا ہے، بھارت دنیا میں دہشتگردی کی سب سے بڑی سرپرست ریاست ہے، خطہ میں دہشتگردی میں بھارت کی بلاواسطہ اور بالواسطہ مداخلت کئی دہائیوں پر محیط ہے، چاہے مکتی باہنی ہو، ایل ٹی ٹی ای، ٹی ٹی پی یا بی ایل اے ہو، اُن کی سرپرستی، فنڈنگ اور منصوبہ بندی، سب بھارت کرتا رہا ہے۔ اب بھارت خود اپنے ہی طریقہ کار کا شکار بن چکا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ ہر سوچ اور ہر مسئلہ کا حل دہشتگردی کے ذریعہ نکالا جا سکتا ہے۔ یہ دہشتگردی اب صرف خطہ اور بھارت کے پڑوسی ممالک تک محدود نہیں رہی، بلکہ بھارت کے اندر بھی ایک داخلی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مسلمان، کشمیری، سِکھ، دلت، منی پور کے قبائلی اور مسیحی بھی اِس کا نشانہ بن رہے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جو مُلْک دہشتگردی میں جیتا اور سانس لیتا ہو، اُسے یہ خوف بھی رہتا ہے کہ کہیں اُس کے تاریک کردار سے پردہ نہ اُٹھ جائے، اُس کیلئے اپنے نشانات چھپانے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ دوسروں پر الزام لگانا شروع کر دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ بعد بھارت سے ایسی من گھڑت اور شرمناک کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں، یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، بھارت کئی دہائیوں سے یہی طرزِ عمل اختیار کرتا آیا ہے۔ نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر ہونے کا دعویٰ کرنے والا آج خود کو سیکیورٹی پرووائیڈ نہیں کر سکتا، وہ خطہ میں کسی اور کو کیا سیکیورٹی پرووائیڈ کرے گا؟ جو دنیا کو امن کی آشا کے گیت سناتا تھا، وہ خود سب سے بڑا دہشتگرد بن گیا ہے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن اپنے ابتدائی مرحلہ میں ہی بے نقاب ہو چکا ہے، اگر بھارت اِس کے باوجود کوئی مہم جوئی کرنا چاہتا ہے تو وہ آزما لے، پاکستان ہمیشہ تیار ہے، لیکن ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ اِس بار بھارت کو آسانی سے جانے نہیں دیا جائے گا، اگر بھارت کسی سٹریٹیجک حماقت کا ارتکاب کرتا ہے تو پاکستان کی جانب سے اُس کی قیمت بہت بھاری ہو گی، اور ردِعمل نہایت سخت ہو گا، اگر بھارت ایک اور ڈراما رچا کر اُس کی آڑ میں کوئی کارروائی کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی قسمت آزما سکتا ہے۔
بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جبر بھارتی ریاست کے پورے بیانیہ پر اثر انداز ہوتا ہے، مسلسل دباؤ کے باوجود کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی خواہش ختم نہیں کی جا سکی، یہی وہ حق ہے جس کا وعدہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں کیا گیا تھا، جب طاقت اور اربوں ڈالرز اور مسلسل جبر اِس خواہش کو نہیں دبا سکے تو پھر یہ بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ کشمیریوں کا ردِعمل حقیقی نہیں بلکہ باہر سے مسلط کیا گیا ہے، جیسے ہر مسئلہ کے پیچھے پنڈی سے آنے والا حوالدار آصف ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ظلم، گرفتاریوں، گھروں کی تباہی اور زیادتیوں کے خلاف ردِعمل فطری ہے۔ کشمیری بھی انسان ہیں، اور اُن کے جذبات و خواہشات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ یہ کیسا مُلک ہے جس میں ابھینندن کو سب سے بڑے فوجی اعزازات اِس بات پر دیئے جا رہے ہیں کہ اُس نے اپنا ہی جہاز گِرا دیا، وہ اِس بات پر مطمئن ہیں کہ پاکستان کی فضائیہ نے اُن کا جہاز گِرایا؟ یہ کیسا مُلک ہے؟ بھارتی ایئر چیف چند ماہ بعد اچانک ایک صبح اُٹھتا ہے اور کہتا ہے؛ اوکے، مجھے آج یاد آیا کہ ہم نے بھی کچھ پاکستانی طیارے گرائے تھے۔ ہم کس قسم کے مُلک کی بات کر رہے ہیں؟ دی فیکستان، دی انکاؤنٹرستان؟ اِس پروفیشنل آرمی کو کیا ہو گیا ہے؟
سعودی عرب اور حرمین شریفین کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عمل کیلئے پُرعزم ہے، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقدس اور مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پاکستان کا عزم قطعی و غیر مشروط ہے، اِس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔





