امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان اور پاکستانی صحافی کے درمیان نوک جھونک

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے ایلون مسک و ایرانی سفیر ملاقات سے متعلق سوال کو غیرمتعلقہ اور صحافیوں کی بےعزتی قرار دیا۔ صحافی نے ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کی پوسٹ پر ردعمل میں کہا کہ سوال کا مقصد سمجھا جاتا تو گفتگو آگے بڑھ سکتی تھی مگر صحافت اور احترام کا سبق شروع کر دیا گیا۔

Join the conversation

Translating from the Urdu… 0 of 4 Read the original

A combined file photo is shown of Frontier Post editor Jalil Afridi (L) and deputy U.S. State Department spox Vedant Patel. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A combined file photo is shown of Frontier Post editor Jalil Afridi (L) and deputy U.S. State Department spox Vedant Patel. — FILE/THE THURSDAY TIMES

واشنگٹن (دی تھرسڈے ٹائمز) — امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے ایلون مسک کی ایرانی سفیر سے ملاقات کے بارے میں سوال کو غیر متعلقہ قرار دے دیا، ویدانت پٹیل نے صحافی سے کہا کہ یہ سوال نہ صرف موضوع سے ہٹ کر ہے بلکہ آپ کے ساتھیوں کیلئے بےعزتی کے مترادف بھی ہے، صحافی نے ’’دی تھرسڈے ٹائمز‘‘ کی پوسٹ پر ردعمل میں کہا کہ اگر امریکی محکمہ خارجہ میرے سوال کے مقصد کو سمجھتا تو یہ بات چیت آگے بڑھ سکتی تھی لیکن انہوں نے مجھے صحافت اور ساتھیوں کے احترام کا سبق دینا شروع کر دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل کی واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ’’دی فرنٹیئر پوسٹ‘‘ سے تعلق رکھنے والی صحافی جلیل آفریدی نے ایلون مسک کی ایرانی سفیر سے نیو یارک میں ہونے والی ملاقات سے متعلق سوال پوچھا کہ کیا یہ سمجھ سے بالاتر نہیں کہ امریکی حکام کی بجائے ایک دولت مند شخص اپنے تئیں ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے؟

ایلون مسک کی ایرانی سفیر سے نیو یارک میں ہونے والی ملاقات کے حوالہ سے سوال کے جواب میں نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل نے کہا کہ مجھے آپ کے سوال کی بنیادی وجہ سمجھ نہیں آئی اور میں ایمانداری سے کہنا چاہوں گا کہ آپ کے سوال کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہے جس پر ہم بات کر رہے ہیں، آپ کا اس طرح ایک غیر متعلقہ سوال پوچھنا آپ کے ساتھیوں کیلئے بھی بےعزتی کے مترادف ہے۔

نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل کے اس جواب پر صحافی جلیل آفریدی خاموش ہو گئے تاہم ’’دی تھرسڈے ٹائمز‘‘ کے ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ سے جب اس گفتگو کی ویڈیو پوسٹ کی گئی تو اس پر ’’دی فرنٹیئر پوسٹ‘‘ کے جرنلسٹ جلیل آفریدی نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی ترجمان اگر میرے سوال کے بنیادی مقصد کو سمجھ جاتے تو ضرور اسے آگے بڑھاتے تاہم انہوں نے مجھے صحافت اور اپنے ساتھیوں کے احترام سے متعلق سبق دینا شروع کر دیا۔

دی تھرسڈے ٹائمز کی پوسٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ’’دی فرنٹیئر پوسٹ‘‘ کے جرنلسٹ جلیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی صحافی کی اہلیت کیلئے اتنا کافی نہیں کہ جس امریکی انٹیلیجنس آفیسر کی رپورٹس امریکی صدر کے میز تک پہنچتی تھیں اس سے متعلق 2020 میں خبریں میرے ذریعہ ’’دی فرنٹیئر پوسٹ‘‘ میں شائع ہوئیں؟

انہوں نے مزید لکھا کہ امریکہ کے پاس ایک مؤثر محکمہ خارجہ موجود ہے جبکہ ایران سے متعلق صدیوں کی تاریخ پر مبنی رپورٹس موجود ہیں، منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک میں ایلون مسک کو ایرانی سفیر سے ملاقات کیلئے بھیجا، کیا اس معاملہ میں امریکی محکمہ خارجہ کو نظر انداز کرنا حیران کن نہیں تھا اور کیا اس سے پاکستان جیسے ملک کو فکرمند نہیں ہونا چاہیے جو کہ ایران کا پڑوسی ہے؟

دی فرنٹیئر پوسٹ کے جرنلسٹ جلیل آفریدی نے مؤقف اپنایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر ایران اور چین سے متعلق سخت رویہ اختیار کریں گے کیونکہ یہ دونوں ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے پر سب سے بڑے دشمن ممالک ہیں اور یقیناَ شام کی صورتحال کے ساتھ ساتھ یہ معاملات بھی پاکستان پر اثر انداز ہونے والے ہیں۔

جلیل آفریدی نے لکھا کہ ماضی میں جب ڈونلڈ ٹرمپ صدر تھے تو ان کے داماد اور سینئر مشیر جاریڈ کوشنر نے سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو کو نظر انداز کرتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی کے ایک ریسٹورنٹ میں غیر ملکی عہدیداروں سے ملاقات کی تھی اور یہ طریقہ کار مجھے پسند نہیں آیا تھا، میں نہیں سمجھتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو دوبارہ اسی راستے پر چلتے ہوئے وہی غلطیاں دوہرانی چاہئیں، ایران کے پاس اس پورے خطہ میں اتنے پراکسی گروپس موجود ہیں کہ جن کا مجھے بھی اندازہ نہیں ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

The Thursday Times is published by Thursday Media International