تجزیہ: مئی 2025 کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور عاصم منیر کی قربت بڑھ گئی، بھارت کو ٹرمپ کی تنقید کا سامنا رہا، فنانشل ٹائمز

مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے قربت میں اضافہ ہوا جبکہ بھارت امریکی صدر کی تنقید کی زد میں رہا، بھارتی روپیہ کی قدر میں کمی آئی جبکہ بھارت تاحال امریکا کیساتھ تجارتی معاہدے کیلئے کوشاں ہے۔

spot_imgspot_img

لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی جریدہ ’’فنانشل ٹائمز‘‘ نے لکھا ہے کہ مئی 2025 میں پاک بھارت جھڑپوں کے بعد واشنگٹن کی پالیسی میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ قربت میں اضافہ ہوا جبکہ بھارت صدر ٹرمپ کی جانب سے تنقید کی زد میں رہا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق گزشتہ برس اپریل میں پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے 7 مئی کو پاکستان کے چند مقامات پر میزائل حملے کیے جبکہ اسلام آباد کی جانب سے مؤثر جوابی کارروائی کی گئی جس کے بعد اگلے تین دن تک سرحدی جھڑپیں جاری رہیں۔ صورتحال 10 مئی کو اُس وقت مزید بگڑتی ہوئی محسوس ہوئی جب بھارت نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے بھارتی فضائی اڈوں پر حملے کر دیئے ہیں۔ تاہم، بعد ازاں، دونوں ممالک نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔

یہ گزشتہ چند دہائیوں میں سب سے بڑی جھڑپ تھی جس کے اثرات میں اہم ترین پیش رفت واشنگٹن کی پالیسی میں رونما ہونے آنے والی بڑی تبدیلی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ قربت مزید بڑھ گئی جبکہ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر نے بھارت کی جانب سے تردید کے باوجود خود کو جنگ بندی کے کریڈٹ کا مستحق قرار دیا۔

برطانوی جریدے نے لکھا ہے کہ سال 2025 میں بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 7 برس بعد پہلی مرتبہ چین کا دورہ کیا اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک نے باہمی احترام، مفادات اور حساسیت پر مبنی تعاون کے عزم کی تجدید کی۔ دسمبر میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نئی دہلی کا دورہ کیا۔

بھارت نے محتاط انداز اپناتے ہوئے صدر ٹرمپ کو براہِ راست ناراض کرنے سے اجتناب کیا جبکہ 2026 میں بھی بھارت کو اسی نازک توازن پر چلتے رہنا ہو گا، اگرچہ بیجنگ کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے تاہم دونوں فریق اب بھی ایک دوسرے کے بارے میں محتاط ہیں۔ بنگلہ دیش میں حالیہ عدم استحکام بھی خطہ پر اثر انداز ہو گا جبکہ ممکنہ طور پر بھارت کو امریکا، چین اور روس کے ساتھ تعلقات متوازن رکھتے ہوئے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تناؤ کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کے بعد نئی دہلی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی کہ وائٹ ہاؤس میں بھارت کی دوست انتظامیہ آ گئی ہے۔ فروری میں نریندر مودی اُن اوّلین غیر ملکی راہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے واشنگٹن کا دورہ کیا۔ اُس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ بھارت بھی اُن اوّلین ممالک میں شامل ہو گا جو ٹرمپ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کریں گے۔

مئی، پھر جون اور پھر جولائی میں معاہدے کی توقع کی جاتی رہی لیکن بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی۔ اگست میں ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر ٹیرف نافذ کیے گئے اور مہینے کے اختتام پر انہوں نے روسی تیل خریدنے پر بھارت کو سزا دینے کیلئے ٹیرف میں مزید 25 فیصد اضافہ کا اعلان کیا۔ بھارتی وزیرِ تجارت پُرامید دکھائی دینے کی کوشش کرتے رہے تاہم یہ واضح ہو چکا تھا کہ معاہدے کے امکانات کمزور پڑ گئے ہیں۔

رواں ماہ بھارتی کامرس سیکرٹری نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کم ٹیرف پر اتفاق کی توقع موجود ہے اور بھارت امریکا کے ساتھ مثبت انداز میں مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ٹرمپ اور مودی کے درمیان بات چیت ہوئی ہے اور دونوں جانب سے خوشگوار بیانات جاری کیے گئے ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق معاہدے کی شرائط طے ہو چکی ہیں اور یہ اب صدر ٹرمپ کے دستخط کا منتظر ہے۔

برطانوی جریدے کے مطابق اگست 2025 تک جب یہ واضح ہونے لگا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ آسان نہیں ہو گا تو مودی حکومت نے اندرونی معاشی ترقی پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں، کئی اصلاحات متعارف کرائی گئیں جن میں سب سے اہم ٹیکسز میں اصلاحات ہیں جبکہ بینکاری شعبہ میں بھی اصلاحات کی گئیں جن کا مقصد مارکیٹ کو وسعت دینا اور قرضوں و منصوبہ جاتی فنانسنگ کو آسان بنانا تھا۔ اِن اصلاحات کی سمت درست ہے تاہم فوری نتائج واضح نہیں ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارتی روپیہ، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا، گزشتہ برس میں مزید کمزور ہوا۔ سال 2025 بھارتی روپیہ کی قدر میں 6 فیصد کمی آئی اور یہ امریکی ڈالر کے مقابلہ میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ کرنسی کیلئے مثبت اشارے نہ ہونے کے برابر رہے۔ مرکزی بینک نے کچھ مواقع پر مداخلت کی تاہم مجموعی طور پر اقدامات غیر مؤثر ثابت ہوئے۔

سال 2026 میں بھی بھارتی روپیہ کے حوالہ سے حوصلہ افزا امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔ تاجروں کے مطابق یہ امریکی ڈالر کے مقابلہ میں اپنی قدر مزید کم کر سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے خام تیل کی قیمتیں کم ہیں جس کے باعث ایندھن کا بل قابلِ برداشت ہے لیکن اگر 2026 میں تیل کی قیمتیں بڑھیں تو کمزور بھارتی روپیہ معیشت کیلئے دوہرا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

spot_img

خبریں

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

More from The Thursday Times

error: