اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، چین، امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، ناروے اور یورپی یونین سمیت مختلف ممالک کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، شہید ہونے والے پاکستانی فوجیوں کیلئے اللّٰه تعالیٰ سے رحمت کی دعا کرتے ہیں اور پاکستانی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے کیے گئے دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے جبکہ اپنی سرزمین کے تحفظ کیلئے پاکستان کی کارروائیوں کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے شہداء کے خاندانوں اور پاکستانی عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا بھی اظہار کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یو اے ای دہشتگردی، انتہا پسندی اور ہر قسم کے تشدد کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بلوچستان میں ہونے والے حملوں کو مجرمانہ کارروائیاں قرار دیتے ہوئے انہیں سلامتی و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے جبکہ پاکستانی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
پاکستان میں چینی ایمبیسی کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہم بلوچستان میں حالیہ دہشتگردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں اور سوگوار خاندانوں اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قطر ہر قسم کے تشدد، دہشتگردی اور مجرمانہ کارروائیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور شہداء کے لواحقین، پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہے۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں اور حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے جن کی ذمہ داری دہشتگرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہماری ہمدردیاں متاثرہ افراد اور خاندانوں کے ساتھ ہیں، ہم دہشتگردی کو مسترد کرتے ہیں اور امن و سلامتی کے مشترکہ عزم میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
فرانس کی جانب سے بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ فرانس کی جانب سے تمام متاثرہ افراد سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ دہشتگردی کی ہر شکل کے خلاف پاکستانی عوام سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
یورپی یونین نے دہشتگردی کی ہر شکل کی سخت الفاظ میں مذمت اور اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں میں جاں بحق ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔
پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر (ایکس) پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں لکھا ہے کہ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں بلوچستان میں ہونے والے حملوں سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
اسلام آباد میں قائم ناروے کی ایمبیسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ناروے بلوچستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے جبکہ اپنے پیاروں کو کھونے والی فیملیز سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 31 جنوری کو بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں (فتنہ الہندوستان) کی جانب سے 12 مختلف مقامات پر حملوں کے نتیجہ میں خواتین اور بچوں سمیت 18 شہری شہید ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 15 اہلکاروں نے جانیں قربان کر کے وطن کا دفاع یقینی بنایا۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی نے دہشتگردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیئے جبکہ آئی ایس پی آر کے مطابق 133 دہشتگرد ہلاک کر دیئے گئے جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔ مزید برآں، گزشتہ رات اور آج پاکستانی فورسز کی جانب سے کارروائیوں میں مزید 22 دہشتگرد بھی مارے جا چکے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی تعداد 177 ہو چکی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (انٹر سروسز پبلک ریلیشنز) کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور دہشتگردوں کی بزدلانہ و سفاکانہ کارروائیوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، معاونین اور براہِ راست ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔




