ریاض، بغداد، کویت سِٹی (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ’’دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ کے مطابق ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پر وسیع تر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں، ایک اور محاذ خاموشی کے ساتھ گرم ہو رہا ہے جس کے اثرات بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ عراق میں موجود ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی اسلامی ریاستوں پر کیے گئے ڈرون حملے اب صرف سرحدی کشیدگی یا محدود جوابی کارروائیوں کا معاملہ نہیں رہے بلکہ ایک ایسے دھندلے مگر تیزی سے پھیلتے تصادم کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو خطہ میں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کو براہِ راست آمنے سامنے لا سکتا ہے۔ گزشتہ پانچ ہفتوں سے زائد عرصہ کے دوران ہونے والے حملوں نے خلیجی سلامتی کے پورے ڈھانچے کو ہِلا کر رکھ دیا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں جائزوں سے واقف ایک شخصیت کے مطابق مملکت پر ہونے والے تقریباً ایک ہزار ڈرون حملوں میں سے نصف تک عراق کے اندر سے کیے گئے۔ اِن حملوں میں بحیرہ احمر کے کنارے واقع حساس ینبع آئل ہب میں ایک سعودی ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مشرقی صوبہ میں تیل کے میدان بھی زد میں آئے۔ معاملہ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہا بلکہ ”وال سٹریٹ جرنل“ کے ذرائع کے مطابق عراق سے چھوڑے گئے ڈرونز نے کویت کے واحد سول ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں ماہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بحرین کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اِسی کے ساتھ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے عراق کے اندر موجود خلیجی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جن میں بصرہ میں کویتی قونصل خانہ اور کردستان میں متحدہ عرب امارات کا قونصل خانہ شامل ہیں۔
یہ سب کچھ اُس بڑی جنگ کے پس منظر میں سامنے آ رہا ہے جو امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف شروع کی تھی۔ ایران خود بھی اپنے خلیجی عرب ہمسایوں پر ہزاروں ڈرونز اور میزائلز داغ چکا ہے جبکہ ”وال سٹریٹ جرنل“ کی رپورٹ کے مطابق عراقی ملیشیاؤں اور لبنان میں ایران نواز ملیشیا حزب اللہ جیسے گروہوں نے تہران کیلئے حملے کے نئے راستے کھول دیئے ہیں۔ اِس سے ایران نہ صرف اپنے دشمنوں پر دباؤ بڑھانے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ اُس نے اپنی جنگی صلاحیت کو جغرافیائی لحاظ سے بھی وسیع کر دیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق واشنگٹن پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ عراقی مسلح گروہ مزید حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی شہریوں کو بغداد میں سفارت خانے اور قونصل خانوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ بغداد میں امریکی سفارت خانہ جنگ کے دوران کئی بار نشانہ بننے کے بعد اپنے بیشتر عملے کو نکال چکا ہے۔ یہ اِس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اِس خطرے کو وقتی یا محدود نہیں سمجھ رہا۔
عراق کی مسلح شیعہ تنظیمیں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والے انتشار میں اُبھری تھیں۔ اُنہوں نے ابتداء میں شیعہ اکثریتی علاقوں کا دفاع کیا، پھر امریکی افواج کے خلاف حملے کیے، اور بعد میں شام سے عراق میں داخل ہونے والے داعش جنگجوؤں کے خلاف بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ایران نے اِن گروہوں کو مسلسل اسلحہ، تربیت اور مالی مدد فراہم کی ہے۔ آج عراق میں درجنوں ملیشیاء موجود ہیں جن کے ارکان کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ بتائی جاتی ہے، اُن کے پاس اربوں ڈالرز کے وسائل ہیں جبکہ اُن کے اسلحہ خانے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔ اِن میں سب سے زیادہ طاقتور کتائب حزب اللہ اور عصائب اہل الحق سمجھے جاتے ہیں جنہیں بغداد اور تہران دونوں میں خاصا اثر و رسوخ حاصل ہے۔
یہ شیعہ گروہ برسوں سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کو ایران مخالف پالیسیز اور امریکا سے قربت کے باعث دھمکاتے رہے ہیں۔ اِس سے پہلے بھی وہ حملے کر چکے ہیں، مگر موجودہ مرحلہ مختلف ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق گزشتہ برس ایران کے ساتھ جنگ کے دوران یہ گروہ نسبتاً محدود کردار میں تھے لیکن اب جبکہ تہران کو اپنی بقاء کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے تو یہ گروہ بھی خود کو اُسی وجودی خطرے کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔ اِسی لیے اب ایسے گروہوں کی کارروائیوں میں پہلے جیسی احتیاط نہیں رہی بلکہ بعض مواقع پر وہ براہِ راست ایرانی عسکری کمانڈ کے تحت کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے سینیئر آفیسر جنرل اسماعیل قاآنی، جو بیرونِ مُلک ملیشیاؤں سے روابط کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں، گزشتہ ہفتے بغداد پہنچے ہیں۔ اِس دورے کو محض سفارتی یا رسمی سرگرمی کے طور پر دیکھنا مشکل ہے۔ ایسے وقت میں جب عراق کے اندر سے خلیجی ریاستوں پر مسلسل حملے ہو رہے ہوں، تہران کے ایک اہم عسکری رابطہ کار کا بغداد جانا اِس وسیع تر منظر نامے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔
خلیجی ریاستوں کیلئے سب سے بڑا سوال اب یہ ہے کہ جواب کہاں اور کیسے دیا جائے۔ ایران پر براہِ راست حملہ شدید تر ردعمل کو دعوت دے سکتا ہے، اِس لیے عراق کو ایک ایسے میدان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں جوابی کارروائی نسبتاً کم خطرے کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب عراق میں علامتی حملے کر کے ملیشیاؤں کو انتباہ دے سکتا ہے جبکہ کویت اور بحرین امریکا کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں تاکہ عراقی ملیشیاؤں پر میزائل حملے کیے جا سکیں۔ اگر ایسا ہوا تو عراق محض پراکسی جنگ کا میدان نہیں رہے گا بلکہ خطہ کی کھلی عسکری صف بندی کا اگلا مرکز بن سکتا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اِن حملوں نے بغداد اور اُس کے خلیجی ہمسایوں کے تعلقات کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ خلیجی حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ بعض مواقع پر عراقی شیعہ ملیشیاء خود عراقی ریاست سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہیں، بالکل اُسی طرح جیسے لبنان میں حزب اللہ برسوں تک ریاست کے اندر ریاست بنی رہی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو خلیجی دارالحکومتوں کو سب سے زیادہ پریشان کر رہا ہے کیونکہ اگر بغداد اپنی سرزمین اور مسلح گروہوں پر موثر کنٹرول قائم نہیں کر پاتا تو خطہ کیلئے عراق ایک مستقل خطرے کے منبع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ عراق کی تاریخ بھی اِس بےچینی کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ صدام حُسین نے 1990 میں کویت پر حملہ کیا تھا اور سعودی عرب کیلئے بھی خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ اُس کے بعد لاکھوں امریکی فوجی سعودی عرب اور کویت پہنچے اور پھر 2003 میں یہی خطہ عراق پر امریکی حملے کا مرکزی اڈہ بنا۔ آج، جب ایک بار پھر عراق اپنے ہمسایوں کے ساتھ تنازع کے مرکز میں کھڑا ہے، تو ماضی کی وہی تلخ یادیں خلیجی ریاستوں کے ذہنوں میں تازہ ہو رہی ہیں۔
اِس تمام بحران کے ساتھ عراق خود بھی شدید سیاسی بےیقینی سے گزر رہا ہے۔ نومبر کے پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت سازی پر جاری اختلافات نے ریاستی ڈھانچے کو مفلوج کر رکھا ہے۔ نئی حکومت کی تشکیل میں تاخیر اور داخلی کھینچا تانی نے بغداد کی اِس صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے کہ وہ ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرے یا اُنہیں ریاستی اداروں سے الگ کر سکے۔ یہی خلاء اُن گروہوں کو مزید جرأت دے رہا ہے۔ سابق وزیراعظم نوری المالکی، جنہیں ملیشیاؤں اور ایران سے قریبی تعلقات رکھنے والی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ایک مرحلے پر دوبارہ اقتدار کے مضبوط امیدوار بنے، اگرچہ اِس پر امریکی اعتراض بھی سامنے آیا۔
برطانیہ کے ادارے ”دی رائل انسٹیٹوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز“، جسے ”چیتھم ہاؤس“ بھی کہتے ہیں، سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تہران میں نظام کمزور پڑتا ہے، بکھرتا ہے، یا شدید زوال کا شکار ہوتا ہے تو عراق کی یہ مزاحمتی تنظیمیں بھی براہِ راست خطرے میں آ جائیں گی کیونکہ اُن کی اصل طاقت، سرمایہ اور تحفظ کا سرچشمہ ایران ہی ہے۔ اِسی لیے اُن کی حکمتِ عملی اب صرف دفاع یا مزاحمت تک محدود نہیں رہی بلکہ بگاڑ پیدا کرنا، خطہ کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور یہ ظاہر کرنا بھی بن چکی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کی قیمت پورے خطہ کو ادا کرنا پڑے گی۔
امریکی اخبار کے مطابق یہی وہ نکتہ ہے جو اِس پوری کہانی کو محض چند ڈرون حملوں کی خبر سے کہیں زیادہ سنگین بناتا ہے۔ یہاں صرف سعودی تنصیبات، کویتی ہوائی اڈے یا بحرینی اہداف پر حملے نہیں ہو رہے بلکہ ایک وسیع تر پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ اگر تہران پر دباؤ بڑھے گا تو اِس کا بوجھ پورا خطہ اٹھائے گا۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ اِسی اُبھرتی ہوئی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عراق اب صرف ایک ہمسایہ مُلک نہیں رہا، بلکہ ایران اور اُس کے مخالفین کے درمیان ایسی جنگ کا اگلا محاذ بنتا جا رہا ہے جس کی حدیں ابھی واضح نہیں، مگر جس کے نتائج بہت دور تک جا سکتے ہیں۔




