ایران کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو خاص مقام حاصل ہے، عباس عراقچی

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد (دی تھرسڈے ٹائمز) — ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ہفتہ کے روز اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں حالیہ امریکا اسرائیل ایران تنازع کے بعد جنگ بندی کی صورتحال، خطے کی کشیدگی اور آئندہ سفارتی مرحلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عراقچی نے پاکستانی قیادت کو تہران کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ گفتگو میں پاک ایران تعلقات، علاقائی سلامتی، سرحدی استحکام اور مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تناؤ کے بعد پیدا ہونے والی نئی سفارتی صورتحال پر توجہ دی گئی۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اپنی خارجہ پالیسی میں ہمسایہ ممالک کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، اور پاکستان اس پالیسی میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تجارت، توانائی، سرحدی تعاون، ٹرانزٹ روابط اور سیاسی ہم آہنگی سمیت متعدد شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ مسلم ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد، اقتصادی روابط اور بین الاقوامی فورمز پر تعاون بڑھانا مشترکہ مفاد میں ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مذاکراتی حل کا حامی ہے، اور ہر ایسے اقدام کی حمایت کرتا ہے جو کشیدگی میں کمی اور ترقی کے ماحول کو فروغ دے۔

عراقچی نے حالیہ تنازع کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے، رابطوں کو ممکن بنانے اور جنگ بندی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق عراقچی نے جنگ بندی سے متعلق ایران کے بنیادی مؤقف سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ تہران ایک ایسے مکمل اور پائیدار خاتمے کا خواہاں ہے جس سے خطے پر مسلط جنگی کیفیت ختم ہو سکے۔

ملاقات میں فلسطینی علاقوں کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ عراقچی نے غزہ میں جاری بحران پر تشویش ظاہر کی اور لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے فلسطینی مقصد کے حق میں پاکستان کے مستقل مؤقف اور لبنان میں جنگ بندی کی حمایت کو سراہا۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں نئی سفارتی صف بندیاں، سکیورٹی خدشات اور اقتصادی دباؤ اہم علاقائی طاقتوں کو رابطے تیز کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اسلام آباد اور تہران دونوں اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ تصادم کے بجائے مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

The headlines

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times