واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکا نے ضبط کیے گئے ایرانی کارگو جہاز کے عملے کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کر دیا ہے، ایک ایسا قدم جو کشیدہ بحری صورت حال کے دوران اسلام آباد پر واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
ایم وی توسکا نامی یہ جہاز گزشتہ ماہ اس وقت روکا گیا تھا جب امریکی حکام کے مطابق اس نے ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی۔ اس واقعے نے خلیج کے اہم بحری راستوں تک رسائی کے معاملے کو ایک بڑے تنازعے کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔
ایرانی جہاز ایم/وی توسکا پر امریکی میرینز کی کارروائی کے مناظر؛
19 اپریل کو میرینز یو ایس ایس ٹرپولی سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے روانہ ہوئے، بحیرۂ عرب عبور کیا، اور جہاز پر اترے۔ یو ایس ایس سپروئنس نے چھ گھنٹے تک مسلسل امریکی وارننگز نظر انداز کیے جانے پر اس کی نقل و حرکت ناکارہ بنا… pic.twitter.com/C5jmTnDOrw— The Thursday Times (@thursday_times) April 20, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ 22 عملہ ارکان کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کیا گیا ہے، جبکہ چھ دیگر مسافروں کو اس سے قبل ایک علاقائی ملک منتقل کیا جا چکا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان چھ افراد کو عملے کے بعض ارکان کے رشتہ دار قرار دیا۔
سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ جہاز کو تحویل سے واپس اس کے اصل مالکان کو منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق توسکا کو گزشتہ ماہ اس وقت روکا اور ضبط کیا گیا تھا جب اس نے ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس پیش رفت کے سفارتی پہلو کو نمایاں کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ 22 عملہ ارکان کو بحفاظت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں ایران بھیجا جائے گا۔ ان کے مطابق جہاز کو ضروری مرمت کے بعد اصل مالکان کو واپس کرنے کے لیے پاکستانی سمندری حدود میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی اور امریکی حکام کے تعاون سے مربوط کی گئی اور یہ اعتماد سازی کا ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران دونوں کا شکر گزار ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور ثالثی میں سہولت فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
Pleased to announce that twenty-two crew members from the seized Iranian container vessel, “MV Touska”, have been safely evacuated to Pakistan.
The individuals were safely flown in Pakistan last night and will be transferred to Iran today. The Iranian ship is also being…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) May 4, 2026
عملے کو پاکستان کے ذریعے واپس بھیجنے کا فیصلہ سفارتی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو راستہ دینے کے لیے “پروجیکٹ فریڈم” کی تیاری کر رہا ہے، یہ منتقلی براہ راست رابطے کے بجائے تیسرے فریق کے ذریعے اعتماد پیدا کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان کا کردار اس کی منفرد پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔ ایران کے ساتھ سرحد، خلیجی ریاستوں سے تعلقات اور امریکا کے ساتھ رابطوں کے باعث اسلام آباد خطے میں کشیدگی کے لمحات میں ایک عملی پل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
یہ پیش رفت بنیادی تنازعے کو ختم نہیں کرتی، مگر بحری تناؤ میں کمی کی جانب ایک محتاط قدم ضرور ہے۔ جب سمندری راستے دباؤ میں ہیں اور عالمی جہاز رانی غیر یقینی صورت حال سے گزر رہی ہے، ایسے محدود اعتماد سازی اقدامات بھی فوری منتقلی سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔




