امریکا نے ایرانی جہاز توسکا کا عملہ پاکستان منتقل کر دیا، اعتماد سازی کی جانب اہم قدم

امریکا نے ضبط شدہ ایرانی جہاز توسکا کے عملے کو پاکستان منتقل کر دیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق، 22 عملہ ارکان کو بحفاظت پاکستان لایا گیا ہے، جہاں سے انہیں ایران بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی اور امریکی حکام کے تعاون سے ہوئی اور اعتماد سازی کا ایک اہم قدم ہے۔

واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکا نے ضبط کیے گئے ایرانی کارگو جہاز کے عملے کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کر دیا ہے، ایک ایسا قدم جو کشیدہ بحری صورت حال کے دوران اسلام آباد پر واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

ایم وی توسکا نامی یہ جہاز گزشتہ ماہ اس وقت روکا گیا تھا جب امریکی حکام کے مطابق اس نے ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی۔ اس واقعے نے خلیج کے اہم بحری راستوں تک رسائی کے معاملے کو ایک بڑے تنازعے کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ 22 عملہ ارکان کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کیا گیا ہے، جبکہ چھ دیگر مسافروں کو اس سے قبل ایک علاقائی ملک منتقل کیا جا چکا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان چھ افراد کو عملے کے بعض ارکان کے رشتہ دار قرار دیا۔

سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ جہاز کو تحویل سے واپس اس کے اصل مالکان کو منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق توسکا کو گزشتہ ماہ اس وقت روکا اور ضبط کیا گیا تھا جب اس نے ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس پیش رفت کے سفارتی پہلو کو نمایاں کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ 22 عملہ ارکان کو بحفاظت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں ایران بھیجا جائے گا۔ ان کے مطابق جہاز کو ضروری مرمت کے بعد اصل مالکان کو واپس کرنے کے لیے پاکستانی سمندری حدود میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی اور امریکی حکام کے تعاون سے مربوط کی گئی اور یہ اعتماد سازی کا ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران دونوں کا شکر گزار ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور ثالثی میں سہولت فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

عملے کو پاکستان کے ذریعے واپس بھیجنے کا فیصلہ سفارتی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو راستہ دینے کے لیے “پروجیکٹ فریڈم” کی تیاری کر رہا ہے، یہ منتقلی براہ راست رابطے کے بجائے تیسرے فریق کے ذریعے اعتماد پیدا کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان کا کردار اس کی منفرد پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔ ایران کے ساتھ سرحد، خلیجی ریاستوں سے تعلقات اور امریکا کے ساتھ رابطوں کے باعث اسلام آباد خطے میں کشیدگی کے لمحات میں ایک عملی پل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

یہ پیش رفت بنیادی تنازعے کو ختم نہیں کرتی، مگر بحری تناؤ میں کمی کی جانب ایک محتاط قدم ضرور ہے۔ جب سمندری راستے دباؤ میں ہیں اور عالمی جہاز رانی غیر یقینی صورت حال سے گزر رہی ہے، ایسے محدود اعتماد سازی اقدامات بھی فوری منتقلی سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™