اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — آپریشن سندور کے بعد سے بھارتی روپیہ پاکستانی روپے کے مقابلہ میں تقریباً 13 فیصد نیچے گِر چکا ہے، یہ بات تھرسڈے ٹائمز کی جانب سے لیے گئے ایکسچینج ریٹ ڈیٹا کے جائزہ میں سامنے آئی ہے۔
جب 7 مئی 2025 کو آپریشن سندور شروع ہوا تب ایک بھارتی روپیہ تقریباً 3 اعشاریہ 3236 پاکستانی روپے کے برابر ٹریڈ کر رہا تھا، یہ شرح 21 مئی 2026 تک کم ہو کر تقریباً 2 اعشاریہ 897 پاکستانی روپے فی بھارتی روپیہ رہ گئی ہے۔ یہ فرق اِس عرصہ کے دوران تقریباً 12 اعشاریہ 8 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
اِس سے آپریشن سندور کے بعد ایک سال کے دوران پاکستانی روپے کے مقابلہ میں بھارتی روپیہ کی قدر میں واضح گراوٹ ظاہر ہوتی ہے۔ اگرچہ روزانہ کے ایکسچینج ریٹس میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، تاہم مئی 2025 سے مئی 2026 تک مجموعی رجحان مسلسل کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ بھارتی روپیہ بڑی عالمی کرنسیز کے مقابلہ میں بھی کمزور ہوا ہے اور پاکستانی روپے کے مقابلہ میں گِرا ہے، حالانکہ پاکستانی روپیہ خود بھی حالیہ برسوں میں دباؤ کا شکار رہا ہے۔
کرنسی کی قدر پر کئی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں جن میں افراطِ زر، شرحِ سود، تیل کی قیمتیں، ڈالر کی مضبوطی، سرمایہ کاروں کا اعتماد، بیرونی فنانسنگ کی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی خطرات شامل ہیں۔ لہذا بھارتی روپیہ اور پاکستانی روپے میں فرق کی شرح کو صرف ایک واقعہ کا نتیجہ سمجھ کر نہیں پڑھنا چاہیے۔
تاہم، اِس کمی کا وقت اِسے قابلِ ذکر بناتا ہے۔ آپریشن سندور کے بعد سے ایکسچینج ریٹ 3 اعشاریہ 32 پاکستانی روپے فی بھارتی روپیہ سے اوپر کی سطح سے 2 اعشاریہ 90 پاکستانی روپے فی بھارتی روپیہ سے نیچے آ گیا ہے، جو دونوں ممالک کی کرنسی پوزیشن میں ایک نمایاں تبدیلی دِکھاتا ہے۔
یہ گراوٹ ایک سادہ مارکیٹ اشارے کے طور پر بھی اہم ہے۔ ایک بھارتی روپیہ ایک برس پہلے کے مقابلہ میں اب کم پاکستانی روپے خریدتا ہے۔ عملی طور پر اِس عرصہ کے دوران بھارتی روپیہ نے پاکستانی روپے کے مقابلہ میں اپنی خریداری قدر کھوئی ہے۔
ایکسچینج ریٹ چارٹ کسی ایک دن کی اچانک گراوٹ کے بجائے ایک مسلسل سلائیڈ کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارتی روپیہ ایک سال کے دوران کئی مرحلوں پر کمزور ہوا اور شرح بتدریج نیچے آتی گئی، یہاں تک کہ مئی 2026 میں یہ تقریباً 2 اعشاریہ 90 پاکستانی روپے فی بھارتی روپیہ تک پہنچ گئی۔
تقریباً 13 فیصد کی اِس کمی سے آپریشن سندور کے بعد کے اہم عرصہ کے دوران ایک مالی پہلو نمایاں ہوتا ہے کہ مئی 2025 کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کرنسی کی حرکت واضح طور پر بدل چکی ہے۔
مارکیٹس کیلئے اصل نکتہ سمتِ سفر ہے۔ بھارتی روپیہ اِس عرصہ کے آغاز پر پاکستانی روپے کے مقابلہ میں تقریباً 3 اعشاریہ 32 کی سطح پر تھا، ایک سال بعد یہ 2 اعشاریہ 90 کے قریب پہنچ چکا تھا۔




