spot_img

پمز آتشزدگی واقعہ کی انکوائری رپورٹ پیش، وزیراعظم کا 8 عہدیداروں کی معطلی اور فوجداری کارروائی کا حکم

پمز ہاسپٹل سانحہ کی انکوائری رپورٹ پیش کر دی گئی، وزیراعظم شہباز شریف نے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر سمیت 8 عہدیداروں کو معطل کرنے اور اُن کے خلاف فوری ڈیپارٹمنٹل و فوجداری کارروائی کا حکم دے دیا۔ رپورٹ کے مطابق وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا جبکہ ایک ماہ قبل ہاسپٹل کی نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگنے کے بعد بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے۔

لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — پمز ہاسپٹل سانحہ سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کر دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ 8 لوگوں کو فوری طور پر معطل کرنے اور اُن کے خلاف فوری کارروائی کی منظوری دے دی۔

شہباز شریف نے ہدایت جاری کی ہے کہ تمام 8 افراد کے خلاف ڈیپارٹمنٹل کارروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری (کریمینل کوڈ) قوانین کے تحت بھی فوری کارروائی شروع کی جائے۔

پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئیر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمٰن نشاندہی کیے گئے 8 افراد میں شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے سی ای او ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ پمز میں آتشزدگی واقعہ کے دوران جان کی پرواہ کیے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہِ خدمت کی بھی منظوری دی ہے۔

پمز ہاسپٹل سانحہ سے متعلق انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالہ سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پمز کے 13 ایس او پیز میں صرف 2 ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا جبکہ صرف ایک ماہ قبل جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے باوجود ہاسپٹل میں حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس کے دوران پمز ہاسپٹل واقعہ کی تقریباً 2 منٹس پر محیط سی سی ٹی وی ویڈیو بھی چلائی گئی اور بتایا گیا کہ واقعہ کے وقت سپر وائزری سٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا جبکہ وارڈ میں کوئی فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم بھی موجود نہیں تھا۔

بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹس کا مختصر وقت لگا، آگ لگنے کے 6 منٹس بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس اُس کے 15 منٹس بعد پہنچا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ واقعہ کے وقت دو نرسز، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے جبکہ ایک نرس نے وارڈ میں آگ پھیلنے سے پہلے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک بچے کی جان بچائی۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نیونیٹل وارڈ میں ڈبلیو ایچ او کے تمام تر قوائد کی خلاف ورزی پائی گئی اور ہاسپٹل میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالہ سے کوئی آفیسر موجود نہیں جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس کے دوران ہاسپٹل کی خستہ حالت اور بد انتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے معطل کیے گئے افراد کی جگہ نئے افراد کی فوری تعیناتی کی ہدایت کی ہے جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے، مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں، واقعہ کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں، واقعہ کے ذمہ داروں کو مثالی سزا دلوائی جائے گی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ غفلت کے باعث کسی ماں سے اُس کا لختِ جگر جدا نہ ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تحقیقات مکمل کر کے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times