ابوظہبی (تھرسڈے ٹائمز) — متحدہ عرب امارات نے منجھی ہوئی سفارت کار لانا نسیبہ کو انتونیو گوتریس کی جگہ اقوامِ متحدہ کا سیکریٹری جنرل بننے کی دوڑ میں اتار دیا ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہوئی تو وہ اس عالمی ادارے کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون اور دوسری عرب شخصیت ہوں گی۔
48 سالہ نسیبہ فلسطینی نژاد اماراتی ہیں۔ انہوں نے اس منصب کی مہم چلانے کے لیے اپنا سرکاری عہدہ اور اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین میں یو اے ای (UAE) کی سفیر کا منصب چھوڑ دیا۔ یو اے ای نے بدھ کو باضابطہ طور پر ان کو نامزد کیا اور ان کے "اقوامِ متحدہ کے حوالے سے وسیع تجربے" کا حوالہ دیا۔ انہیں خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایک دہائی
وہ 2013 سے 2024 تک اقوامِ متحدہ میں یو اے ای کی مستقل مندوب رہیں اور یہ منصب سنبھالنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی نشست کے لیے ملک کی کامیاب مہم کی قیادت بھی کی۔ ایک انتخابی مہم کی ویڈیو میں انہوں نے "امن کی کوششوں میں زیادہ تیزی لانے" اور "انسانی حقوق کا دفاع کرنے" کا عزم ظاہر کیا۔
اماراتی سیاسی تجزیہ کار عبدالخالق عبداللہ نے اے ایف پی (AFP) سے بات کرتے ہوئے کہا: "لانا نسیبہ کا سی وی (CV) خاصا ضخیم ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ وہ "یو اے ای کی سفارت کاری کا بہترین پہلو سامنے لاتی ہیں۔" امریکا کی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے تحت غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف نے کہا کہ وہ "کمرے میں حالات مشکل ہو جائیں تو بھی ہار نہیں مانتیں" اور "انتھک ہیں، مگر ایسے انداز میں نہیں کہ لوگ دب کر رہ جائیں۔"
تعطل کا شکار دوڑ
سیکریٹری جنرل کا انتخاب 15 رکنی سلامتی کونسل میں غیر رسمی آزمائشی رائے شماری کے ذریعے ہوتا ہے، جس کے بعد کونسل کی سفارش جنرل اسمبلی کو بھیجی جاتی ہے۔ پانچ مستقل ارکان میں سے کوئی بھی کسی امیدوار کا راستہ روک سکتا ہے۔ تازہ ترین رائے شماری میں ہر امیدوار کو مستقل ارکان کی جانب سے کم از کم دو مخالف ووٹ ملے، جو عملاً ویٹو کے مترادف ہے۔
کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر ربیکا گرنسپن پہلے کے جائزوں میں معمولی برتری کے ساتھ آگے رہی تھیں، جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی اور گیانا کی اقوام متحدہ میں سفیر کیرولن روڈریگس برکیٹ بھی دوڑ میں شامل ہیں۔ روایت کے مطابق یہ منصب باری باری مختلف خطوں کو ملتا ہے، جس کے لحاظ سے اس بار لاطینی امریکا سے امیدوار کا امکان بنتا ہے، تاہم امریکی سفیر مائیک والٹز کہہ چکے ہیں کہ توجہ خطے یا جنس کے بجائے "بہترین امیدوار" پر ہونی چاہیے۔
متحدہ عرب امارات کے ریکارڈ پر سوالات
توقع ہے کہ نسیبہ کی امیدواری کے باعث ابراہام معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اقدام کی جانچ پڑتال ہوگی، جس کا انہوں نے دفاع کیا ہے، اور ساتھ ہی ان الزامات کی بھی کہ ابوظہبی سوڈان کی جنگ میں نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کی پشت پناہی کر رہا ہے، جن کی متحدہ عرب امارات تردید کرتا ہے۔
عبداللہ نے کہا، "کوئی بھی امیدوار تنقید سے خالی نہیں... ہمیں اس کا سامنا کرنا ہی پڑے گا، خاص طور پر سوڈان کے معاملے پر۔" گوتریس کی دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔∎



