راولپنڈی (تھرسڈے ٹائمز) — 1993 سے 1996 تک پاک فوج کی قیادت کرنے والے سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ راولپنڈی میں انتقال کر گئے، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پیر کو بتایا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز، آئی ایس پی آر (ISPR) کے بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام افسران و جوانوں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا: "سی ڈی ایف (CDF) اور پاک فوج کے تمام افسران و جوان مرحوم جنرل کے نمایاں عسکری کیریئر، قیادت اور پاک فوج کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاک فوج سوگوار خاندان کے غم میں شریک ہے اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔"
سیاسی بحران کے دوران آرمی چیف
کاکڑ جنوری 1993 سے جنوری 1996 تک چیف آف آرمی اسٹاف رہے۔ اپنے دور میں انہوں نے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں 1993 کے عام انتخابات ہوئے اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔
وہ تین سالہ مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہو گئے۔
خراجِ عقیدت
ایوانِ صدر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کاکڑ کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ بیان میں کہا گیا: "صدر سوگوار خاندان کے لیے دعا گو ہیں کہ اسے یہ نقصان صبر کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت عطا ہو۔"
سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی (PTV) کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مرحوم جنرل کی مسلح افواج کے لیے "گراں قدر خدمات" کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر کہا کہ وہ کاکڑ کے انتقال پر "انتہائی رنجیدہ" ہیں۔ ڈار نے لکھا: "پاکستان اور پاک فوج کے لیے ان کی نمایاں خدمات کو انتہائی احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔"
پاکستان تحریک انصاف، پی ٹی آئی (PTI) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کاکڑ کی "پیشہ ورانہ لگن اور جس انداز میں انہوں نے اپنے قومی فرائض انجام دیے" کی تعریف کی اور کہا کہ وہ "ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھے جائیں گے"۔



